Here comes the much awaited Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
یعنی اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اس آیت کو مفسرین عام طور پر in terms of money لیتے رہے، یعنی ربا (سود) میں کمائی گھٹتی ہے اور غیر ربا اکانومی میں اقتصادیات بڑھتی ہے۔ امریکا کے سفر میں مجھے جو باتیں سمجھ میں آئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ یہ تفسیر جدید انسان کے لیے قابلِ فہم نہیں۔ کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ مبنی بر ربا اکانومی میں خوب مادی ترقی ہو رہی ہے۔ ایک مسلمان جو ایک ایشیائی ملک سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ امریکا کی سوسائٹی میں ہر آدمی سود کے نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے لیے ممکن ہوتا ہے کہ ہم زندگی شروع کرتے ہی تمام چیزیں حاصل کرلیں ۔ یہاں اگر آپ کو جاب مل جائے تو آپ بینک سے سودی قرض لے کر اچانک سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں ، گھر ، کار ، بچوں کی تعلیم ، وغیرہ۔ اس کے بعد کمائی کا ایک حصہ سود کی قسط کی شکل میں دیتے رہیں اور تمام مادی سامان سے فائدہ اٹھاتے رہے۔
میں برابر سوچتا رہا کہ اس آیت کی وہ تفسیر کیا ہے جس سے آج کا ذہن ایڈریس ہو سکتا ہو، جس سے آج کے ذہن کو مطمئن کیا جاسکے۔ پھر میری سمجھ میں آیا کہ یہاں جس برکت کا ذکر ہے، اس سے مراد غالباً ذہنی ترقی اور اسپرچول ترقی ہے۔
ربا (interest) کیا ہے۔ ربا دراصل مورمنی (more money) کلچر کی سب سے زیادہ خود غرضانہ شکل ہے۔ ربا کے نظام میں جو کلچر فروغ پاتا ہے، اس میں سارا زور زندگی کے مادی پہلو پر ہوتا ہے۔ اس میں ذہنی ارتقا یا روحانی ارتقا کا کوئی خانہ نہیں ہوتا۔ اس طرح ربا کے نظام کے تحت جو ترقی ہوتی ہے، وہ یک طرفہ ترقی (one sided development) ہوتی ہے۔ اس نظام کے تحت لوگ جسمانی اعتبار سے شان دار دکھائی دیتے ہیں، وہ اچھے اچھے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں، لیکن ذہنی اور روحانی ارتقا کے اعتبار سے عام طور پر وہ پس ماندگی کی آخری حد تک پہنچے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارے موجودہ پروگرام میں ایک صاحب کینڈا سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کینڈا میں جس آفس میں کام کرتا ہوں، وہاں بہت سے یہودی اور عیسائی ہوتے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues