Here comes the much awaited Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
ہیں ۔ وہ لوگ ایک سوال یہ کرتے ہیں کہ تمھارے قرآن میں انجیر اور زیتون کا چرچا کیا گیا ہے ۔ ہمارے کینیڈا میں بہت سے اچھے اچھے پھل ہوتے ہیں ، لیکن ان کا تمھارے قرآن میں کوئی ذکر نہیں ۔ پھر ہم کینیڈا کے لوگ کیسے تمھارے قرآن کو مانیں ۔ قرآن عرب اور شام کے لیے تھا ، وہ امریکا اور کینیڈا کے لیے نہیں ۔ اس قسم کا سوال وجواب صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیا ہے ۔ ذہنی اعتبار سے ترقی یافتہ آدمی اس قسم کا سوال نہیں کر سکتا ۔ امریکا کے زمانۂ قیام میں یہاں مجھ کو شہروں کے علاوہ دیہات (countryside) میں بھی جانے کا اتفاق ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ چیزوں کا جو معیار (standard) شہر میں ہے ، وہی دیہات میں بھی ہے ۔ مثلاً مکان ، سڑک ، بجلی وغیرہ کا نظام ۔ ان معاملات میں یہاں شہر اور دیہات میں کوئی فرق نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ امریکا میں چیزوں کی معیار بندی (standardization) کی گئی ہے ، جب کہ انڈیا جیسے ملکوں میں ابھی تک چیزوں کی معیار بندی نہیں ہوئی ہے ۔
امریکا کی ایک صفت یہ ہے کہ یہاں ہر چیز اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے ۔ اس کا بنیادی سبب مسابقت (competition) ہے ۔ یہاں ہر کام کے لیے پرائیویٹ کمپنیاں ہوتی ہیں ۔ ان کے درمیان سخت مقابلہ کا ماحول قائم رہتا ہے ۔ اس سے ہر کمپنی یہ چاہتی ہے کہ وہ کارکردگی کا اعلیٰ معیار پیش کرے ، تا کہ وہ عوام میں مقبولیت حاصل کر سکے ۔
یہاں کے ایک پروگرام میں ایک صاحب آئے ۔ ان کی गोद میں ان کی چھوٹی بچی تھی ۔ وہ مسلسل اپنی چھوٹی بچی میں مشغول تھے وہ اگر چہ بظاہر ہمارے پروگرام میں شریک تھے ، مگر ان کا سارا دھیان اپنی بچی میں لگا ہوا تھا ۔ اس کا اندازہ مجھے اُس وقت ہوا جب کہ میں نے اپنی ایک بات کو ان سے دہرانے کے لیے کہا تو وہ اس کو صحیح طریقہ پر نہ دہرا سکے ۔ میں نے کہا کہ ہیومنزم (Humanism) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی فلاسفی ہے ۔ خدا کی سیٹ پر انسان کو بٹھانا : Transfer of seat from God to man. میں نے کہا کہ اسی کا نام شرک ہے ، اور یہی فعل ہر زمانے میں ہوا ہے ۔ ہر زمانے میں اور آج
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues