دعوتِ قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
کی ایک آیت یہ ہے: ولا تقفُ ما ليس لك به علم، إن السمع والبصر والفؤاد كلُّ أولئك كان عنه مسؤولا (36: یعنی تم اُس چیز کے پیرونہ بنوجس کا تمہیں علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کی، آدمی سے پوچھ ہوگی۔
قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہا گیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پیدا ہو جائے۔ وہ اپنے قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کو پوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنا لے۔ قرآن کے مطابق، یہی وہ منصوبۂ تخلیق (creation plan) ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کر کے اس کو محدود مدت کے لیے سیارہ ارض (planet earth) پر بسایا گیا ہے۔ سیارہ ارض انسان کے لیے کوئی عیش گاہ نہیں ہے، وہ مذکورہ مقصد کے لیے مقامِ انتخاب (selection ground) ہے۔ یہاں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر جنت جیسی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: الذي خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملا (67: 2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct. اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، وہ وسیع تر تقسیم (division) میں دو ہیں— مادی دنیا اور انسان۔ مادی دنیا سے مراد وہ پوری وسیع کائنات ہے جس کو نیچر (nature) کہا جاتا ہے۔ مادی دنیا مکمل طور پر خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون (divine laws) کے تحت کام کر رہی ہے۔ وہ خدا کے قانون سے ادنیٰ انحراف نہیں کرتی۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان پوری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو انتخاب کی آزادی (freedom of choice) عطا کی گئی ہے۔ انسان کو کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ خود اپنی سوچ کے مطابق، اپنے قول و عمل کا فیصلہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues