دعوتِ قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۱۲، صفحہ ۱۶
یہ بات قرآن کی مختلف آیتوں میں بتائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اُسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے“(83:3)۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا، تو وہ دین اُس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں ناکام انسانوں میں سے ہوگا“(3:85) قرآن کی اِسی آیت میں لفظ’ اسلام‘ (submission) استعمال کیا گیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کی جو اطاعت بقیہ کائنات سے جبری (compulsory) طور پر مطلوب ہے، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ اِس اطاعت کو وہ کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ انسان کو سننے کی طاقت، دیکھنے کی طاقت اور سوچنے کی طاقت اِس لیے دی گئی ہے، تاکہ انسان اُن کا استعمال کرکے اپنے لیے اُس صحیح روش کو جان سکے جس کو قرآن میں صراطِ مستقیم کہا گیا ہے۔ صراطِ مستقیم سے ہٹنا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے اپنی ملی ہوئی صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال نہیں کیا۔ ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ مواخذہ (accountable) قرار پائے گا، کوئی بھی عذر اِس سے قبول نہیں کیا جائے گا (57:30)۔
اِسی طرح حیاتِ انسانی کا ایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کبر (arrogance) کی نفسیات سے بچائے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: ولا تمش في الأرض مرحا، إن الله لا يحب كل مختال فخور (31:18) یعنی تم زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
قرآن کی اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے لیے سب سے بری اخلاقی صفت کیا ہے، وہ کبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کبر تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کے برعکس، تواضع (modesty) تمام بھلائیوں کا سرچشمہ۔ قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو متواضع ہو اور کبر کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔ قرآن کی سورہ الفجر میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ساتھ جو خوش گوار یا نا خوش گوار تجربات
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues