Al-Risala · June 2012 · page

دعوتِ قرآن

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

پیش آتے ہیں، وہ صرف ابتلا (test) کے لیے ہوتے ہیں، مگر انسان ایسے واقعات کو منفی معنی میں لے لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ خوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ 'اُکْرَمَنَ‘ کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے، یعنی احساسِ برتری (superiority complex) کی نفسیات میں۔ اس کے برعکس، اگر اُس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ ’اَهَانَنِ‘ کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے، یعنی احساسِ کم تری (inferiority complex) کی نفسیات میں (16-15 :89)۔

قرآن کے مطابق، یہ دونوں چیزیں انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی خوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ جو انسان اس طرح معتدل شخصیت کا ثبوت دے، اس کو قرآن میں النفس المطمئنة (27 :89) کہا گیا ہے، یعنی کاپلیکس فری انسان (complex-free soul)۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اُس کو موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں داخل مل جائے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إن هذا لهو الفوز العظیم۔ لمثل هذا، فليعمل العاملون (61-60 :37) یعنی یقیناً یہی بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، انسان کا گول (goal) کیا ہونا چاہیے، وہ گول صرف ایک ہے، اور وہ جنت ہے۔ جنت سادہ طور پر صرف ایک عیش گاہ نہیں ہے۔ جنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ رب العالمین کا پڑوس ہے، اور بلاشبہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی کہ اس کو ابدی زندگی میں اپنے رب کا پڑوس (neighbourhood) حاصل ہوجائے۔ جنت کی یہ خصوصیت قرآن کی اس دعا سے معلوم ہوتی ہے: رب ابن لي عندك بيتاً في الجنة (66:11) یعنی اے میرے رب، میرے لیے تو اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page