Al-Risala · June 2012 · page

مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی

بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے بارے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: یوشک الأمم أن تداعی علیکم كما تداعی الأكلة إلى قصعتها. فقال قائل: و من قلة نحن يومئذ. قال بل أنتم يومئذ كثير، ولكنكم غثاء كغثاء السيل، ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم، وليقذفن في قلوبكم الوهن۔ قيل وما الوهن يا رسول الله۔ قال: حب الدنيا وكراهية الموت (أبو داود، رقم الحديث: (4297) حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تمھارے اوپر ٹوٹ پڑیں، جس طرح کھانے والے کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا، کیا اس لیے کہ اُس وقت ہم لوگ کم تعداد میں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اُس وقت تم لوگ بہت زیادہ ہوگے، مگر تم لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے، اللہ تمھارے دشمنوں کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا، اور تمھارے دلوں میں وہن پیدا کر دے گا۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، وہن کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت، اور موت کو ناپسند کرنا۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں میں یہ مسئلہ اگرچہ خارجی اعتبار سے پیدا ہوگا، لیکن اُس کا اصل سبب تمام تر داخلی ہوگا۔ امت کے اس داخلی مسئلے کو حدیث میں "وہن" کہا گیا ہے۔ وہن کا لفظی مطلب ہے ضعف (weakness)۔

یہ ضعف (کمزوری) کیا ہوگا، اس کو بھی حدیث میں بتا دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اُس زمانے میں مسلمانوں کا کُنسرن (concern) یہ نہیں رہے گا کہ وہ دین کے تقاضے پورے کریں۔ اُن کا کنسرن صرف یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں مادی اعتبار سے اپنی جگہ بنائیں ۔ موت کے بعد پیش آنے والی صورتِ حال اُن کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور نہ ہوگی، بلکہ ان کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور صرف یہ ہوگا کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی میں کس طرح مادی کامیابی اور مادی ترقی حاصل کریں ۔ " دنیا پرستی اور آخرت فراموشی کے اسی مزاج کو حدیث میں وہن کہا گیا ہے۔ اس مزاج کے بعد امتِ مسلمہ سے خدا کی نصرت اٹھ جائے گی، اور

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page