مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
خدا کی نصرت اٹھنے ہی کا وہ نتیجہ ہوگا جس کی تصویر مذکورہ روایت میں نظر آتی ہے۔ ایسی حالت میں اس مسئلے کا حل دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج نہ ہوگا، بلکہ اُس کا حل صرف یہ ہوگا کہ اپنی داخلی حالت کی اصلاح کرکے دوبارہ اپنے آپ کو نصرت الہیٰ کا مستحق بنایا جائے۔
لوگوں کے دلوں میں تمھاری ہیبت باقی نہ رہے گی ۔ ہیبت یا مہابت کا ترجمہ عام طور پر خوف کیا جاتا ہے، مگر خوف ایک منفی لفظ ہے، جب کہ ہیبت تمام تر ایک مثبت لفظ ہے۔ اس حدیث میں ہیبت سے مراد سیاسی ہیبت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ ہیبت ہے جو اعلیٰ قسم کے مثبت اوصاف سے پیدا ہوتی ہے۔ ہیبت سے مراد وہ خوف نہیں ہے جو کسی درندہ جانور کو دیکھ کر آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے ۔ ہیبت یا مہابت سے مراد وہ رعب و دبدبہ (profound reverence) ہے جو کسی فرد یا گروہ کے اندر اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ وہ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے دوسروں کے مقابلے میں برتر حیثیت حاصل کرلے ۔ قدیم زمانے میں مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں یہ ہیبت حاصل تھی، جب کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے دوسروں کے مقابلے میں اپنی یہ ہیبت مکمل طور پر کھودی ہے۔ اس فرق کا سبب یہ نہیں ہے کہ قدیم زمانے میں مسلمانوں کے پاس لشکرِ جرار کی طاقت موجود تھی، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے کے مسلمان اپنی نظریاتی برتری، اصول پسندی، نفع بخشی اور اپنی اخلاقی عظمت کے اعتبار سے، دوسروں کے مقابلے میں اعلیٰ سطح پر پہنچے ہوئے تھے۔ اس حدیث میں بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی جس حالت کا ذکر ہے، وہ کوئی پر اسرار بات نہیں، وہ ایک تاریخی حقیقت کا بیان ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، ہر قوم کی بعد کی نسلوں میں زوال (degeneration) آتا ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کا کوئی استثنا (exception) نہیں ۔ فطرت کے قانون کے مطابق، ایسا ہوتا ہے کہ دور زوال میں پیدا ہونے والی نسلیں مثبت اوصاف سے محروم ہو جاتی ہیں۔ پہلے اگر وہ دوسری قوموں کو دینے والے (giver) تھے، تو اب وہ دوسری قوموں سے لینے والے (taker) بن جاتے ہیں۔ پہلے اگر اُن کے افراد میں اعلیٰ حوصلگی تھی، تو اب اُن کے افراد پست حوصلگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پہلے اگر اُن کے اندر تخلیقی فکر تھی، تو اب اُن کے افراد صرف تقلیدی فکر کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues