نیچر کی نسبت سے فرد کی ذمے داری
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
کنٹری بیوشن (contribution) کا اعتراف ہے، اور دوسرے اعتبار سے، وہ اپنے انفرادی دائرے میں اس کی محدود قیمت ادا کرنا ہے۔
انسانی ذمے داری کی اسی نوعیت کی بنا پر قرآن میں اس کو انسان کی طرف سے انسان کو اس کے حقوق ادا کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها :
God commands you to hand back your trusts to their rightful owners. (4: 58)
اسلام کے اس تصور (concept) کے مطابق، ایک فرد جب انسانی سماج کے حق میں اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتا ہے تو وہ دوسروں کو کچھ دیتا نہیں ہے، وہ صرف یہ کرتا ہے کہ دوسروں سے ملے ہوئے میں سے کچھ حصے کو وہ اُن کی طرف لوٹاتا ہے۔ یہ تصور ہر فرد کے اندر اپنی ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے طاقت ور محرک (strong incentive) پیدا کرتا ہے، اتنا زیادہ طاقت ور محرک کہ اس سے زیادہ طاقت ور محرک اور کوئی نہیں۔
نیچر کی نسبت سے فرد کی ذمے داری
انسانی ذمے داری کا دوسرا پہلو وہ ہے جو نیچر سے تعلق رکھتا ہے۔ نیچر سے مراد پورا عالم مادیت (entire physical world) ہے۔ یہ عالم جس کے اندر انسان اپنے آپ کو پاتا ہے، وہ انسان کے لیے اتنا زیادہ موزوں ہے جیسے کہ وہ اُسی کے لیے بنایا گیا ہو۔ اسی لیے ایک سائنس داں نے اس کو کسٹم میڈ ورلڈ (custom-made world) کہا ہے۔ اس دنیا کے اندر انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں موجود ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واٰتاکم من كل ما سألتموه :
God has given you all that you asked of Him. (14:34)
انھیں تمام چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر موجودہ دنیا میں انسان کی زندگی ممکن ہی نہ ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues