Al-Risala · June 2012 · page

نیچر کی نسبت سے فرد کی ذمے داری

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

ہماری یہ موافق دنیا اتفاقاً اس طرح نہیں بن گئی۔ اُس کو بنانے والے نے اُس کو بلا شبہ شعوری منصوبے کے تحت اس طرح بنایا ہے کہ وہ ہر پہلو سے عین ہماری ضرورتوں کے موافق ہے۔ اس طرح کی ایک موافق دنیا ہم خود وجود میں نہیں لاسکتے تھے۔ یہ دنیا ہم کو خالق کی طرف سے انتہائی استثنائی طور پر بطور خصوصی عطیہ دی گئی ہے۔ قرآن میں موجودہ دنیا کے اس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم فطری حالت پر باقی رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرو، تم اُس میں ہرگز کوئی بگاڑ پیدا نہ کرو۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحها : Do not corrupt the land after it has been set in order (7:85)

قرآن کی اس آیت کے مطابق، ہماری دنیا ایک اصلاح یافتہ دنیا ہے۔ وہ پیشگی طور پر انسان کی ضرورتوں کے مطابق، بنائی گئی ہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا کو اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرے، لیکن کسی انسان کو یا کسی انسانی مجموعے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دنیا کے فطری نظام کو بگاڑے۔ وہ دنیا کے فطری نظام میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا کرے جس کے بعد وہ اگلی نسلوں کے لیے قابلِ استعمال نہ رہے۔ یہ انسان کی وہ ذمے داری ہے جو نیچر کے اعتبار سے، انسان کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ ہدایت دی گئی ہے کلوا واشربوا ولا تسرفوا :

Eat and drink, but do not be wasteful (7:31)

مثلاً انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین میں واقع پانی کے ذخیرے کو استعمال کرے، لیکن اُس کو یہ حق نہیں کہ وہ پانی میں کسی قسم کی آلودگی (pollution) پیدا کر کے اس کو انسان کے لیے ناقابلِ استعمال بنا دے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی سطح پر اُگے ہوئے درختوں کو استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے درختوں کو کاٹ کر زمین کی ہریالی (greenery) کو ختم کر دے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی زرخیزی کو زراعت کے لیے استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے غلط استعمال سے اس کو ناقابلِ پیداوار بنادے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی فضا کو استعمال کرے، لیکن انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے کسی غیر فطری عمل کے ذریعے وہ خرابی (evil) پیدا کرے جس کو فضائی کثافت

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page