Al-Risala · June 2012 · page

نیچر کی نسبت سے فرد کی ذمے داری

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

کہا جاتا ہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ یہاں اپنی انڈسٹری لگائے، مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ یہاں ایسی انڈسٹری لگائے جو اوزون کے زندگی بخش غلاف (layer) کو ڈیمج کردے، وغیرہ۔ نیچر انسان کے لیے ایک بے حد قیمتی تحفہ ہے جو انسان کو بالکل فری دیا گیا ہے، لیکن انسان اس نیچر کا مالک نہیں، وہ اُس کا امین ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ نیچر کے بارے میں خالق کے منصوبے کو جانے اور وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق، استعمال کرے۔

خالق کا وہ منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کو انسانی خواہش کے مطابق (according to human greed) نہیں بنایا، بلکہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کو انسانی ضرورت کے مطابق (according to human need) بنایا ہے۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے — إنّا كلّ شيء خلقناه بقدر :

We have created everything in due measure (54: 49)

یہ تخلیقی منصوبہ انسان کے لیے لازم کرتا ہے کہ وہ ایک طرف، اپنی حقیقی ضرورتوں کا تعین کرے اور دوسری طرف، وہ نیچر کی چیزوں کو اُن کی تخلیقی نوعیت کے اعتبار سے جانے، پھر وہ ان دو طرفہ تقاضوں کے مطابق، اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ اس کے برعکس، انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی خواہش کی بنیاد پر نیچر کا اندھا دھند استعمال کرے، کیوں کہ ایسا کرنے سے نیچر کا متنا سب نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی خواہشیں (desires) لامحدود ہیں۔ اس کے برعکس، نیچر کی تمام چیزیں محدود ہیں۔ ایسی حالت میں انسان اگر خواہشوں (desires) کی بنیاد پر اپنا پلان بنائے، تو اُس کا پلان خالق کے پلان کے مطابق نہ ہوگا۔ انسان اس قسم کے ٹکراؤ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی مشین دو کاگ (cog) پر چل رہی ہے — ایک، ہیومن کاگ (human cog) اور دوسرا، ڈوائن کاگ (divine cog)۔ ڈوائن کاگ کی اپنی مقرر رفتار (pace) ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاگ کو بھی اُسی رفتار پر چلائے جو ڈوائن کاگ کی رفتار ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page