Al-Risala · January 2012 · page

America is at war with Islam

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

ایسا ہی ہوا۔ اب اصلاح کا آغاز یہ ہے کہ آپ خود اپنے آپ کو بدلیں۔ بچوں کو یا سوسائٹی کو ذمے دار ٹھہرانے سے کوئی فائدہ نہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ میری بیٹی ایک عیسائی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ میں کیا کروں۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں فتویٰ کی زبان کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ حرام وحلال کی زبان بولیں گے تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ آپ اپنی لڑکی کو بتائیے کہ اس طرح کی شادی کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ اس طرح کی شادیوں کا انجام ہمیشہ طلاق ہوتا ہے، پھر ایسی شادی سے کیا فائدہ۔ شادی پوری زندگی کا ایک معاملہ ہے، وہ کوئی وقتی معاملہ نہیں۔

امریکا کے صدر براک اوباما نے 22 جون 2011 کی شام کو 13 منٹ کی ایک تقریر کی جو ٹی وی پر ہر جگہ سنائی گئی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر ہمارا مشن پورا ہو چکا ہے۔ ہم اپنی 33 ہزار فوج کو سال بھر کے اندر واپس بلا لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ نے ہمارے خلاف یہ بات پھیلائی تھی کہ امریکا نے اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے:

America is at war with Islam

عجیب بات ہے کہ القاعدہ کا یہ نظریہ سارے مسلمانوں میں پھیل گیا۔ تقریباً ہر مسلمان امریکا سے نفرت کرنے لگا۔ عرب کے لوگ کہنے لگے کہ: أمريكا عدو الإسلام رقم واحد۔ مگر کسی نے حقائق کی روشنی میں اس کا تجزیہ نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ڈائرکٹ یا انڈائرکٹ طور پر امریکا کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا جو کام ہو رہا ہے، وہ تمام مسلم ملکوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ انسان بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہوا ہے۔ اس کا پہلا واقعہ آدم اور ابلیس کی صورت میں ہوا۔ ابلیس نے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ آدمی کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ تم کو جنت کی اصل نعمت دی ہی نہیں گئی۔ آدم اس سے متاثر ہوئے اور انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔ آدم کو جنت میں 99 فی صد سے زیادہ نعمتیں ملی ہوئی تھیں۔ شجر ممنوعہ کی حیثیت ایک فی صد سے بھی کم تھی۔ مگر جھوٹے پروپیگنڈے کے نتیجے میں آدم 99 فی صد سے زیادہ کو بھول گئے اور ایک فی صد سے کم پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page