الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
صورت گری نہیں کرتا، بلکہ مادی حالات تاریخ کی صورت گری کرتے ہیں:
The mode of production in material life determines the general character of the social, political, and spiritual process of human life. تاریخ کا ایک تصور وہ ہے جو نیشن (nation) پر مبنی ہے۔ کسی نیشن کی مختلف سرگرمیوں کے ریکارڈ کو اس کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً انڈین نیشن کی تاریخ، جرمن نیشن کی تاریخ، وغیرہ۔ ایک اور تاریخی نظریہ وہ ہے جس کو برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات : 1975) نے پیش کیا۔ اُس نے اس موضوع پر ایک مکمل کتاب 12 جلدوں میں لکھی جس کا نام یہ ہے: A Study of History ٹائن بی نے تاریخ کا یہ تصور پیش کیا کہ تاریخ، تہذیب کے ارتقائی مراحل کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ تہذیبوں کے معمار ہی تاریخ کے معمار ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک زمانے میں رومی تہذیب نے تاریخ سازی کا رول ادا کیا۔ اُس کے بعد مسلم تہذیب، تاریخ ساز تہذیب کی حیثیت سے ابھری۔ اس کے بعد برٹش تہذیب کو تاریخ سازی کا یہ مقام ملا، وغیرہ۔
دوسرا تصور تاریخ وہ ہے جس کو مذہبی تاریخ کہا جاتا ہے۔ مذہبی تصور تاریخ کو علمی اعتبار سے، کوئی مستند درجہ نہیں ملا، حتیٰ کہ موجودہ زمانے میں اس کو بالکل ناقابل حوالہ سمجھ لیا گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کے مقالہ نگار (Patrick Lancaster Gardinar) نے اپنے مقالہ فلسفۂ تاریخ (Philosophy of History) کے تحت لکھا ہے کہ مذہبی اور مابعد الطبیعی قیاسات کی روشنی میں، انسانی تقدیر کے معاملات کی تعبیر کا دور، جدید مورخین کے نزدیک، اب ختم ہو چکا ہے: The age of religious and metaphysical conjectures concerning the destiny of human affairs had, in their opinion, come to a close (EB. 8/962, 1974) یہ بات بلا شبہ بے بنیاد ہے۔ یہ بات اُسی طرح غیر علمی ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کا دور ختم ہو گیا (God is dead)، یا یہ کہ پیمبری کی وحی صرف ایک شاعرانہ تجربہ (poetic experience) تھی،
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues