الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
یہ کہ مذہب کی کوئی بنیاد نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے، وغیرہ۔ خدا کا منصوبہ تخلیق اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ یہ دنیا ہر اعتبار سے ایک پرفیکٹ دنیا تھی۔ اللہ نے یہ مقدر کیا کہ اس معیاری دنیا میں ایسے افراد بسائے جائیں جو ہر اعتبار سے معیاری انسان ہوں۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کر کے اس کو سیارہ ارض پر آباد کیا۔ اس نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ موجودہ دنیا اس منصوبے کے لیے ایک سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ تاریخ کے خاتمے پر یہ ہوگا کہ آزادی کا غلط استعمال کرنے والے افراد رد کردئے جائیں گے اور جن افراد نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اُن کو منتخب کر کے اُنھیں جنت میں آباد کر دیا جائے گا۔ جنت کے تصور کو ملحد مفکرین انسانی تمناؤں کی خوب صورت نظریہ سازی (beautiful idealization of human wishes) کا نام دیتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ جنت کے تصور کو انسانی تاریخ کی خوب صورت تعبیر (beautiful interpretation of human history) کہا جائے۔
یہ ایک پیچیدہ منصوبہ ہے۔ اس کا ایک جُز یہ ہے کہ انسان کی آزادی پوری طرح برقرار رہے۔ اس کا دوسرا جُز یہ ہے کہ اللہ اس منصوبے کی تکمیل تک اپنے علم کے مطابق، اس کی تنظیم کرتا رہے۔ اس طرح یہ دو طرفہ تقاضے کو منچ کرنے کا ایک معاملہ ہے۔ تاریخ کی کوئی قابل فہم تعبیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ تاریخ کو اس دو طرفہ تقاضے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ تعبیر تاریخ کا یہی درست اصول ہے۔ اس اصول کو نظر انداز کرنے کے بعد تاریخ کی تعبیر کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ انسانی تاریخ کی تعبیر کا کام انسان کرتا ہے، مگر انسان کا خالق خود انسان نہیں، انسان کا خالق اللہ ہے۔ اس لیے تاریخ کی تعبیر کا رہنما اصول (guiding principle) صرف یہ ہو سکتا ہے کہ مورخ سب سے پہلے خالق کے منصوبہ تخلیق (creation plan of the Creator) کو معلوم کرے۔ یہی اس معاملے میں ماسٹر پرنسپل (master principle) ہے۔ اس ماسٹر پرنسپل کو ذہن میں رکھے بغیر کوئی شخص تاریخ کی درست تعبیر نہیں کر سکتا۔ زیر نظر مقالے میں اسی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues