مطلوب افراد کا انتخاب
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
قابلِ فہم تعبیر تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مطلوب افراد کا انتخاب
خدا کے اس تخلیقی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دئے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ “ (30-32: 2)
فرشتوں کو یہ معلوم تھا کہ تمام موجودات مکمل طور پر خدا کے تابع فرمان ہیں، مگر انسان کو آزادی دے کر زمین پر بسایا جا رہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ لوگ آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور وہ زمین میں فساد اور خون ریزی برپا کریں گے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے فرشتوں کو بتایا کہ اگر چہ انسانوں کی بڑی تعداد آزادی کا غلط استعمال کر کے مفسد بن جائے گی، لیکن انھیں میں سے ایسے افراد بھی نکلیں گے جو صالح افراد ہوں گے۔ آدم نے فرشتوں کے سامنے انھیں صالح افراد کا تعارف کرایا اور پھر فرشتے مطمئن ہو گئے۔
اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگرچہ بگاڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد وجود میں آتے رہیں گے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) ہے، یعنی پورے مجموعے میں سے مطلوب افراد کا انتخاب کرنا۔ تخلیق کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ انسان اسی سیارہ ارض پر معیاری نظام بنائے، بلکہ تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر نسل میں سے اُن افراد کو منتخب کیا جائے جو کامل آزادی کے باوجود
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues