تاریخ کے چند اوراق
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
اپنے آپ کو بطور خود ضابطہ خداوندی کا پابند بنالیں۔
تاریخ کے چند اوراق
خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کے سفر کو چند بڑے ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ادوار یا یہ تاریخی مراحل حسب ذیل ہیں :
1- پہلا دور نبیوں کے ذریعے اعلان کا دور ہے۔ یہ دور حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دور میں بہت سے پیغمبر آئے، لیکن اُن کا مشن اعلان کے مرحلے تک محدود رہا، وہ انقلاب کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔
2- دوسرا مرحلہ وہ ہے جو حضرت اسماعیل بن ابراہیم سے شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ایک ایسی امت تیار ہوئی جو خدا کی کتاب کی حامل امت بن سکے۔
3- حامل کتاب امت کے وجود میں آنے کے بعد جو اہم واقعہ ہوا، وہ یہ کہ قرآن خدا کی ہدایت کے مستند متن (authentic text) کی حیثیت سے محفوظ ہو گیا۔
4- اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں جو نیا دور آیا، اُس کا ایک اہم جُز آزادی رائے (freedom of thought) تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اس کا آغاز ایک پراسس (process) کی شکل میں ہوا۔ ہزاروں سال بعد مغربی تہذیب کی صورت میں وہ اپنے کمال کو پہنچا۔ 5- اس تاریخی عمل میں مغربی تہذیب کا ایک سپورٹنگ رول ہے۔ مغربی تہذیب کی حیثیت اس تاریخی سفر میں ایک سیکولر مؤید (secular supporter) کی ہے۔
6 - دور جدید میں سائنس کی حیثیت اس تاریخی سفر میں ایک مؤید عنصر (supportive element) کی ہے۔ جدید سائنس نے نیچر کی انفولڈنگ کر کے اُن خدائی نشانیوں کو کھولا جن کو قرآن میں آیات (signs) کہا گیا ہے (41:53)۔
7- جدید دور کو ایج آف کمیونیکیشن کہا جاتا ہے۔ یہ ایج دراصل موافق دعوتِ ایج ہے۔ گلوبل کمیونیکیشن نے پہلی بار گلوبل دعوہ کو ممکن بنا دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues