Al-Risala · July 2012 · page

مقصد تخلیق

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

8- پچھلی ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار دعوت الی اللہ کا ایک نیا امکان پیدا ہوا ہے۔ اس امکان کو جو لوگ استعمال کریں گے، اُن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے (صحیح مسلم)۔ اخوان رسول کا لفظ فضیلت کو نہیں، بلکہ رول کو بتاتا ہے۔ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے ساتویں صدی میں اُس وقت کے امکانات کو استعمال کیا۔ اخوان رسول وہ لوگ ہوں گے جو اکیسویں صدی کے امکانات کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔

مقصد تخلیق

فلاسفہ اور مفکرین کے یہاں زیر بحث سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ تخلیق کی غایت اصلی (raison d'être) کیا ہے۔ سیکولر مفکرین نے اس کا جواب مختلف انداز سے دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً یہ کہ تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے خالق خود اپنی تکمیل چاہتا ہے۔ قرآن میں اس سوال کا جواب ایک آیت میں اس طرح دیا گیا ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون (51:56) یعنی میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ صحابی مفسر عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ اس آیت میں ’لیعبدون‘ سے مراد ’لیعرفون‘ ہے، یعنی خدا کی عبادت کرنے سے مراد ہے خدا کی معرفت حاصل کرنا۔ خالق کی معرفت کوئی سادہ بات نہیں۔ انسان اپنے خالق کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا، لیکن تخلیق کا مطالعہ اور صاحبِ تخلیق کی کتاب (قرآن) کا مطالعہ کر کے آدمی یقینی طور پر خالق کی عظمتوں کو دریافت کر سکتا ہے۔ تخلیق کی اعلیٰ معنویت خالق کا اعلیٰ تعارف ہے۔ تخلیق کے مطالعے سے آدمی خالق کا جو علم حاصل کرتا ہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔

کسی آدمی کو جب خالق کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو یہ اُس کے لیے سپر تھرل (super thrill) کا ایک تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ آدمی کی شخصیت میں ایک عظیم انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ خدا رخی سوچ بن جاتی ہے، آدمی کا کلام خدا رخی کلام بن جاتا ہے، آدمی کا سلوک خدا رخی سلوک بن جاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، آدمی کی پوری زندگی خدا کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page