Al-Risala · July 2012 · page

تاریخ کی بامعنی تعبیر

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

رنگ میں رنگ جاتی ہے (138:2)۔

یہی معرفت مزید وسعت پا کر دعوت الی اللہ بن جاتی ہے۔ دعوت الی اللہ کیا ہے۔ وہ آدمی کی معرفت خدا کی توسیع یا اس کا خارجی ظہور ہے۔ جو آدمی گہرائی کے ساتھ خدا کی معرفت حاصل کرے، اس کے اندر شدید طور پر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس معرفت میں دوسروں کو حصے دار بنائے۔ اسی واقعے کا دوسرا نام دعوت الی اللہ ہے۔

خدا کی معرفت ایک فرد کے اندر متحقق ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر۔ جب ایک بڑی تعداد خدا کے عارفوں پر مشتمل ہو جائے تو اُس وقت پورے مجموعے یا اس کی بڑی تعداد معرفت کی حامل بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام اصلاً فرد پر مبنی کام ہے، نہ کہ مجموعے پر مبنی کام۔ دعوت الی اللہ کا نشانہ اصلاً کسی سسٹم یا کسی اجتماعی نظام کے وجود میں لانا نہیں ہے، بلکہ فرد فرد کو معرفت خداوندی کا حامل بنانا ہے۔ اس کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں، وہ اصل نشانے کے بالواسطہ نتائج ہیں، نہ کہ اصل نشانہ۔

تاریخ کی بامعنی تعبیر

ایک بڑی انڈسٹری قائم کی جائے تو بظاہر اُس میں بہت سے اجزا اور بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن انڈسٹری کا مقصود اصلی صرف ایک ہوگا، اور وہ ہے___ کوئی خاص پروڈکٹ (product) نکالنا، یہی پروڈکٹ انڈسٹری کا حقیقی جُز ہوگا اور بقیہ تمام چیزیں انڈسٹری کے اضافی اجزا قرار پائیں گے۔ یہی وہ واحد اصول ہے جس پر انڈسٹری کی صحت کارکردگی کو جانچا جائے گا۔ یہی معاملہ انسانی تاریخ کا ہے۔ انسانی تاریخ کے بظاہر بہت سے اجزا ہیں۔ اس میں بظاہر بہت سی سرگرمیاں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن تاریخ کی توجیہہ کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ تاریخ کے معاملے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے اور خالق کے منصوبے کے مطابق، اس عظیم کارخانہ تاریخ سے کون سا پروڈکٹ نکالنا مقصود ہے۔ اس کے سوا، کوئی دوسرا نقطہ نظر تاریخ کی درست توجیہہ میں کارآمد نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page