افراد، نہ کہ مجموعہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کی مختلف سرگرمیوں کے دوران خالق کو جو پروڈکٹ وجود میں لانا مقصود ہے، وہ صرف ایک ہے۔ اس پروڈکٹ کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے، یعنی ایک فرد کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر۔ یہی ربانی افراد خدا کے منصوبہ تخلیق کی اصل غایت (raison d'être) ہیں۔ جب تک یہ ربانی افراد بنتے رہیں گے، اُس وقت تک تاریخ کے ہنگامے جاری رہیں گے، اور جب اس قسم کے افراد پیدا ہونا بند ہو جائیں تو اس کے بعد وہ وقت آجائے گا، جب کہ تاریخ کے موجودہ دور کو ختم کر کے اس کے دوسرے دور کا آغاز کر دیا جائے۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کو عادلانہ اجتماعی نظام (just social system) کی اصطلاح میں جانچنا درست نہیں۔ خالق کا منصوبہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں عادلانہ نظام قائم ہو، بلکہ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی تجربہ گاہ میں عادل افراد پیدا ہوں اور پھر ان عادل افراد کو منتخب کر کے انھیں یہ موقع دیا جائے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر رہ سکیں۔ تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation of history) صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ مذکورہ اصول کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی دوسرا اصول، تاریخ کی معنویت (meaning) کو واضح کرنے کے لیے کارآمد نہیں۔
افراد، نہ کہ مجموعہ
حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کی صحیح تعبیر صرف وہ ہے جو خالق کے تخلیقی پلان کی روشنی میں کی جائے۔ تعبیر تاریخ کے اس موضوع پر، قرآن کو ایک مستند ماخذ کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، تاریخ کی تعبیر کیا ہونا چاہئے۔ پچھلے ادوار میں ہزاروں مورخین پیدا ہوئے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تمام مورخین کی تیار کردہ کتابیں صرف تاریخی واقعات کا دفتر (chronicles) ہیں، وہ انسانی تاریخ کی معنویت کو واضح نہیں کرتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کتب تاریخ کی روشنی میں تاریخ صرف بے معنی واقعات کا ایک جنگل نظر آتی ہے۔ اِسی حقیقت کو انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (وفات: 1794) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— انسانیت کی تاریخ،
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues