افراد، نہ کہ مجموعہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے:
History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind. تعبیر تاریخ کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام مورخین تاریخ کو مجموعہ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور وہ مجموعہ کے اعتبار سے، اس کے حسن و قبح کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر خدائی تخلیق کے مطابق، تعبیر تاریخ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مجموعہ انسانیت کو دیکھ کر تاریخ کی تعبیر نہ کی جائے، بلکہ افراد انسانی کو دیکھ کر اس کی تعبیر کی جائے۔ مجموعہ کے اعتبار سے دیکھنے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کا کوئی عہد عہد زریں (golden age) نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر افراد کے اعتبار سے، تاریخ کو دیکھا جائے تو ہر عہد، زریں افراد (golden individuals) کا عہد نظر آئے گا۔ معیاری افراد کا انتخاب اصل یہ ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کو اس لیے نہیں بنایا کہ یہاں مجموعہ کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کر رہے۔ اس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔ موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں ہر نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابیل، قابل رد تھا اور ہابیل، قابل قبول۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کر رہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کر رہا ہے۔ رد و قبول کے اسی معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ثلّة من الأولين وثلة من الآخرين (40-39 :56) یعنی اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔
قابل قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہو جائے گی تو اس کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues