Al-Risala · July 2012 · page

معیارِ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

خالقِ کائنات موجودہ دنیا کو ختم کر کے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ قابلِ قبول افراد اس جنت میں بسا دیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف و حزن سے پاک زندگی گزاریں گے۔ اور ناقابلِ قبول افراد کو رد کر کے کائناتیکوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ ابد تک حسرت کی زندگی گزاریں گے۔

معیارِ تاریخ

یہی تاریخ کو دیکھنے کا صحیح معیار ہے۔ اس معیار سے تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ فساد کے جنگل میں ہمیشہ اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اسی جنگل میں آدم کے بیٹے ہابیل بھی تھے۔ جنھوں نے اپنے قاتل سے کہا: لئن بسطتَ إليَّ يدك لتقتلني ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلك۔ إني أخاف الله رب العالمين (28: یعنی اگر تم مجھ کو قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ہابیل کا یہ قول امن کا قول تھا۔ ہابیل نے اپنی اس روش سے امن پسندی کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس کے آگے امن پسندی کا کوئی اور درجہ نہیں۔

اسی طرح، تاریخ کے اس جنگل میں ہاجرہ اُمِ اسماعیل جیسی خاتون پیدا ہوئیں ۔ انھوں نے ڈھائی ہزار سال پہلے، خدا کے منصوبے کے مطابق، ایک نئی نسل برپا کرنے کے لیے یہ قربانی دی کہ وہ اپنے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو لے کر عرب کے صحرا میں آباد ہو گئیں۔ اُس وقت اُن کی زبان سے یہ تاریخی کلمہ نکلا کہ جب خدا کا یہی منصوبہ ہے تو خدا ہم کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا (إذن لا يضيعنا الله)۔ ہاجرہ کی اِسی قربانی کے نتیجے میں بنو اسماعیل کی وہ نسل پیدا ہوئی جو اعلیٰ انسانی اوصاف کی حامل تھی۔ ایک مغربی اسکالر پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ (وفات: 1940) نے اِس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بنو اسماعیل کی اِس نسل کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) قرار دیا تھا۔ اسی طرح، تاریخ کے اس جنگل میں ابو بکر اور عمر جیسے افراد پیدا ہوئے، جن کو اقتدار ملا، لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بگاڑ سے کامل طور پر بچایا۔ مہاتما گاندھی نے ابو بکر اور عمر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page