معیارِ تاریخ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
کہ اگرچہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے، مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری : Though, they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers. (Harijan, July 27, 1937) انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ خدا نے انسان کی فطرت میں جنت کا تصور ودیعت کر دیا ہے۔ اسی لیے ہر عورت اور مرد جو پیدا ہوتے ہیں، وہ تمناؤں اور خواہشوں (desires) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے اندر فطری طور پر ایک تصوراتی دنیا بسی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے، انسان ایک طالب جنت مخلوق (paradise-seeking animal) ہے۔
اسی فطرت کی بنا پر ایسا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان اپنے لیے ایک معیاری دنیا کی تعمیر میں لگ جاتا ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اپنے تمام وسائل کو ایک ایسی دنیا کے حصول میں لگا دیتا ہے، جو اس کے لیے خوشی اور سکون کی دنیا ہو، جہاں اس کو پورے معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) مل سکے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی جو اس دنیا میں آیا، وہ اپنی مطلوب دنیا کی تعمیر میں ناکام رہا، اور مایوسی کی نفسیات میں مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس عموم میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ راقم الحروف نے ایک بار انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے تقریباً 400 ممتاز افراد کے بارے میں یہ معلوم کیا کہ ان کے آخری ایام کیا تھے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ بلا استثنا اُن میں سے ہر شخص سخت مایوسی (despair) کی حالت میں مرا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں جو معیاری دنیا بسی ہوئی ہے، وہ جنت ہے۔ مگر جنت کو پانے کا مقام آخرت ہے، نہ کہ موجودہ دنیا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کے قابل بنائے۔ مگر ساری تاریخ میں انسان نے یہ کیا کہ ہر ایک موجودہ دنیا ہی میں اپنی جنت کی تعمیر کرنے لگا۔ ایسا کرنا خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ اس لیے ہر انسان صرف ناکامی کی ایک مثال بن کر رہ گیا۔ مفکرین اور مصلحین نے عام طور پر اپنا نشانہ یہ بنایا کہ وہ اس دنیا میں انصاف اور انسانی اقدار (human values) کے اعتبار سے ایک معیاری دنیا بنائیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues