Al-Risala · July 2012 · page

حضرت نوح کا رول

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

انسانوں کا مجموعہ خواہ آزادی کا صحیح استعمال نہ کرنے کی بنا پر غلط رخ پرچلتا رہے، لیکن پھر بھی افراد کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق صحیح مذہب کو اختیار کر سکیں۔

اس نئے منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے ہوا۔ حضرت ابراہیم کا مقام عمل قدیم عراق تھا۔ یہاں اُس وقت مشرکانہ کلچر کا غلبہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے لمبی مدت تک اُنھیں توحید کی دعوت دی، مگر وہ لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر توحید کی فکر کو قبول نہ کر سکے، یہاں تک کہ انھوں نے حضرت ابراہیم کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہوا کہ حضرت ابراہیم اپنے مقام عمل کو بدل دیں۔ چناں چہ وہ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے فرزند اسماعیل کو لے کر مکہ کے قریب آگئے جو اُس وقت صرف ایک ویران صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔

اس صحرائی ماحول میں توالد و تناسل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں وہ گروہ وجود میں آیا جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ماحول میں ایک نئی قوم بنانے کا یہ عمل تقریباً ڈھائی ہزار سال تک جاری رہا۔ پھر بنواسماعیل کے اسی گروہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام کی 23 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں یہ ہوا کہ بنواسماعیل کے صالح افراد بڑی تعداد میں آپ کے گرد جمع ہو گئے، یہاں تک کہ وہ گروہ بنا جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول کا زمانہ عمل ساتویں صدی عیسوی ہے۔ اُن کے ذریعے منصوبہ خداوندی کے مختلف کام انجام پائے۔ مثلاً کتاب الہی (قرآن) کا محفوظ ہو جانا۔ دین خداوندی کا ایک عملی ماڈل قائم ہو جانا۔ دین خداوندی جو پچھلے انبیا کے زمانے میں زیادہ تر فکری مرحلے تک محدود تھا، وہ اب انقلابی مرحلے میں پہنچ گیا۔ ان تبدیلیوں کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا جائے ۔ تاریخ میں انفرادی پیغمبر کا دور ختم ہو جائے اور اجتماعی امت کا دور شروع ہو جائے، وغیرہ۔ اللہ کی خصوصی نصرت سے، اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلابی کام انجام پایا، اُس کا ایک خاص پہلو وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8:39)۔ اس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد وہ جارحانہ نظام ہے جو قدیم طرز کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page