Al-Risala · July 2012 · page

حضرت نوح کا رول

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

شہنشاہیت (imperialism) کی سرپرستی میں قائم تھا۔ اس شہنشاہی نظام نے ایک ایسا نظام قائم کر رکھا تھا جو خدا کے تخلیقی منصوبے کی تنسیخ کے ہم معنی تھا، یعنی آزادی فکر کا خاتمہ۔ اس لیے خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اس جبری شہنشاہی نظام کو توڑ دیا جائے، تاکہ انسانی قافلے کے سفر میں کوئی مصنوعی رکاوٹ حائل نہ رہے۔

ساتویں صدی عیسوی میں اس جبری شہنشاہیت کے دو بڑے نمائندے تھے—ایک ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire) اور دوسرے، رومن ایمپائر یا بازنطینی ایمپائر (Byzantine Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اتنا زیادہ طاقت ور تھے کہ اصحاب رسول کے ذریعے ان کو مغلوب کرنا عملاً ناممکن تھا۔ عین اُس زمانے میں ایک معاون واقعہ پیش آیا، یعنی دونوں سیاسی چٹانوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ۔ چناں چہ دونوں ایمپائر ایک دوسرے سے لڑ گئے۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومن ایمپائر کو تباہ کیا، اس کے بعد رومن ایمپائر نے ساسانی ایمپائر کا زور توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ خدائی منصوبے کے مطابق، اصحاب رسول اُن کو مغلوب کر سکیں۔ یہ تاریخی واقعہ پیشگی طور پر منصوبہ الہی میں مقدر کر دیا گیا تھا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف بائبل میں پیشین گوئی کے طور پر ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں ۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے ۔ قدیم ٹیلے جھک گئے : He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk, 3: 6)

یہ ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اہل اسلام کو وہ سیاسی غلبہ حاصل ہو گیا جو اس سے پہلے صرف اُن سیاسی نظاموں کو حاصل تھا جو مشرکانہ کلچر کی سرپرستی کرتے تھے ۔ مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے تحت تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اس عمل کا نشانہ تھا—فطرت (nature) کو موضوع تحقیق (object of investigation) بنانا، جواب تک انسان کے لیے صرف موضوع پرستش (object of worship) بنی ہوئی تھی ۔ انسان کو مکمل آزادی عطا کر کے اس کے لیے ذہنی ارتقا کا راستہ کھولنا، فطرت میں چھپے ہوئے اُن وسائل کو وقوع میں لانا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page