مشرق سے مغرب کی طرف
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
جو عالمی دعوت کو ممکن بنانے والے ہوں، وغیرہ۔
انسانی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان علمی تحقیق کا کام خاص طور پر عباسی دور میں شروع ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ اس بنا پر علمی تحقیق کی طرف مسلمان صرف جزئی طور پر متوجہ ہو سکے۔ مسلمانوں کی توانائی کا بڑا حصہ سیاسی سرگرمیوں میں لگا ہوا تھا۔ ان کی توانائی کا صرف محدود حصہ علمی تحقیق کے میدان میں صرف ہو رہا تھا۔ یہ تناسب ناکافی تھا۔ علمی تحقیق کا یہ کام بہت بڑا کام تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ مسلمان اپنی طاقت کو پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کے میدان میں وقف کر دیں۔ مگر سیاسی اقتدار اس قسم کی علمی یکسوئی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اس کے برعکس، صلیبی جنگوں کے بعد علمی تحقیق کا کام جب یورپ کی مسیحی قوموں میں شروع ہوا تو سیاسی اقتدار اُن کے لیے رکاوٹ نہ بن سکا، کیوں کہ عملاً وہ اُن کے پاس موجود ہی نہ تھا۔ چناں چہ مسیحی قوموں کے اعلیٰ ذہن بڑی تعداد میں علمی تحقیق کے میدان میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کا کام شروع کر دیا۔
یہ بھی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا معاملہ تھا۔ جب خالق نے دیکھا کہ مسلم دنیا کے حالات علمی تحقیق کو زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تو اُس نے علمی تحقیق کے کام کو مسلم دنیا سے نکال کر مسیحی دنیا کی طرف منتقل کر دیا، جہاں اس قسم کی رکاوٹ والے اسباب موجود نہیں تھے۔
مشرق سے مغرب کی طرف
اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ حالات کی موافقت کی بنا پر اس کی توسیع اتنی تیز رفتاری کے ساتھ ہوئی کہ 50 سال کے اندر اہل اسلام کا ایک ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امت محمدی تسخیر فطرت اور سماجی انقلاب کے وہ مطلوب کام انجام دے جس کے لیے اُس کو سیاسی غلبہ عطا کیا گیا تھا۔ مگر مسلمان بہت جلد آپس کے سیاسی ٹکراؤ میں مشغول ہو گئے اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues