Al-Risala · August 2012 · page

احسن القصص

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

سیاسی اقتدار (political power) کسی اور کے ہاتھ میں ہو، لیکن یہ امکان ہو کہ اگر داعی حق دوسرے کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کر لے تو اس کو کام کے مواقع بلا روک ٹوک حاصل ہو جائیں گے، تو اُس وقت حکمت کا تقاضا یہ ہوگا کہ ایسی پیش کش کو کھلے دل سے قبول کر لیا جائے۔ حضرت یوسف کے ساتھ یہ معاملہ اُس دور میں پیش آیا، جب کہ دنیا میں ہر جگہ زراعت کا دور (agricultural age) پایا جاتا تھا۔ کام کے مواقع تمام تر زراعت کے ساتھ وابستہ تھے۔ اُس وقت خزائنِ ارض کا مطلب تھا— خزائنِ زراعت۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب ہم جمہوریت کے دور میں ہیں۔ اب سیاست کا ڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization) ہو چکا ہے۔ اب انتظام (administration) کے سوا تمام شعبے ہر ایک کے لیے آزادانہ طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں حضرت یوسف کا ماڈل موجودہ حالات میں مکمل طور پر قابلِ انطباق (applicable) ہے۔ آج اگر داعی حق، سیاسی حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرے تو کسی باضابطہ اعلان یا معاہدہ کے بغیر ہی تمام خزائنِ ارض، بہ الفاظ دیگر، تمام مواقع کار آزادانہ طور پر داعی کے زیر تصرف آجائیں گے۔ حضرت یوسف کے اس ماڈل کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ حق کے داعی کو چاہئے کہ وہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں غیر نزاعی طریق کار (non-confrontational approach) اختیار کرے ۔ اس حکمت کا یہ نتیجہ ہو گا کہ خزائنِ ارض پوری طرح اس کے استعمال میں آجائیں گے اور وہ پرامن رہنے کی شرط پر دعوت کا کام اعلیٰ ترین معیار پر انجام دے سکے گا۔ حضرت یوسف کے واقعے کو قرآن میں احسن القصص کہا گیا ہے۔ یہ محض ایک قصے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہترین ماڈل ہے جس کو ایک پیغمبر کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف کا قصہ قرآن کے علاوہ، بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ بادشاہ مصر نے جب حضرت یوسف کو مصر کے خزائن پر مقرر کیا تو اس نے کہا:

Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 37:50)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page