احسن القصص
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
حضرت یوسف کی مثال کی روشنی میں اگر یہ متعین کیا جائے کہ اس کے مطابق ، کام کا بہترین ماڈل کیا ہے، تو وہ ماڈل یہ ہوگا کہ بادشاہ وقت سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ آپ غیر سیاسی دائرے میں موجود تمام مواقع کو آزادانہ طور پر حق کے مشن کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ اس ماڈل کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے_ سیاسی اقتدار کے معاملے میں موجودہ صورت حال کو تسلیم کرنا، اور سیاسی اقتدار کے باہر کے دائرے میں اپنے عمل کی تنظیم کرنا: Political statusquoism, non-political activism. مقام محمود قرآن کی سورہ الاسرا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا گیا ہے: عسى أن يبعثك ربك مقاماً محموداً (17:79) یعنی امید ہے کہ تمھارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے۔ قرآن کی اس آیت میں جس مقام محمود کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو آخرت سے پہلے موجودہ دنیا میں پیش آنا ہے۔ مقام محمود کے اس دوسرے پہلو کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو استثنائی طور پر خود انسانی تاریخ کے مطابق، ایک مسلم نبوت (acknowledged prophethood) کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر دنیا میں آئے، ہمارے عقیدے کے اعتبار سے، وہ بلاشبہ خدا کے پیغمبر تھے۔ مگر قدیم زمانے میں موافق اسباب نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے پیغمبر قدیم تاریخی ریکارڈ میں درج نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں پہلی بار وہ اسباب پیدا ہوئے جب کہ آپ کو آزاد تاریخی ریکارڈ میں ایک معلوم اور مسلم شخصیت کے اعتبار سے درج کیا گیا۔ اس تاریخی حقیقت کو ایک مستشرق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے_ محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے: Muhammad was born within the full light of history. محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب 570 میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ بنو اسماعیل کے ایک فرد تھے۔ پچھلے تقریباً ڈھائی ہزار سال کے دوران عرب کے ماحول میں بنو اسماعیل کے نام سے ایک پوری نسل
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues