احسن القصص
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
تیار ہو چکی تھی۔ جس کے افراد کی اعلیٰ صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروز کی نسل (a nation of heroes) کہا تھا۔ یہی وہ گروہ ہے جس میں دعوت وتربیت کا کام کرکے وہ جماعت تیار ہوئی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے ایک نیا دور پیدا کر دیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحابِ رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہوگیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہو گیا۔
اِس انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہوگیا۔ اِسی پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصفِ اول میں عرب سے ہوا، اِس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔ اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً اس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality) کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دعوت وتبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونیکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جا سکے۔ آفاق وانفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہو گیا کہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (4:53)۔ آیتِ اسرا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور، یعنی ہجرت (622ء) سے ایک سال پہلے ایک واقعہ پیش آیا، جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: سبحان الذي أسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا ۔ اس آیت میں اسرا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسرا کا لفظی مطلب ہے— رات کا سفر (night journey) ۔ اللہ تعالی کے خصوصی انتظام کے تحت، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ رات کے ایک لمحے میں آپ نے مکہ سے یروشلم کا سفر کیا، اور پھر آپ اسی رات کو یروشلم (فلسطین) سے مکہ واپس آئے ۔ اس سفر کی مجموعی مسافت تقریباً 25 سو کلومیٹر تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues