Al-Risala · August 2012 · page

احسن القصص

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

اس سفر کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: لنریہ من آیاتنا یعنی اللہ تعالیٰ کی نشانیاں پیغمبر کو دکھانا۔ یہ نشانیاں (آیات اللہ) کیا تھیں، وہ یروشلم کی عمارتیں یا وہاں کے درخت اور چشمے نہ تھے۔ وہ نشانی دراصل فطرت میں چھپا ہوا وہ امکان تھا جس کو تیز رفتار سفر اور تیز رفتار پیغام رسانی کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا دور مواصلات (age of communication)۔ اس تجربے کے ذریعے پیغمبر اسلام کو بتایا گیا کہ انسان کو وہ ذرائع حاصل ہو جائیں گے جن کی مدد سے عالمی سطح پر خدا کے آخری دین کی اشاعت ممکن ہو جائے، یعنی وہی واقعہ جس کو حدیث میں ادخال الکلمة في كل البيوت (ہر گھر میں کلمہ اسلام کا داخلہ) کہا گیا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اسرا کے واقعے کی صورت میں جو تجربہ کرایا گیا، وہ مستقبل کے بارے میں ایک بشارت تھی۔ اس بشارت کا ذکر احادیث میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: و ليتمّنّ الله هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضر موت، ما يخاف إلا الله (صحیح البخاري، رقم الحديث: 3852) یعنی اللہ ضرور اس امر (دین) کو تکمیل تک پہنچائے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرت موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا خوف نہ ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار (مسند احمد، رقم الحديث: 17082) یعنی خدا کی قسم، یہ امر (دین) ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: لا یبقی علی ظہر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، جہاں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمہ کو داخل نہ کردے۔ قرآن کی سورہ الاسرا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تیز رفتار کمیونیکیشن کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ مذکورہ احادیث میں پیشین گوئی کے انداز میں بتایا گیا ہے کہ یہ امکان ضرور مستقبل میں واقعہ بنے گا اور خدا کا دین جو عرب میں شروع ہوا، وہ گلوبل کمیونیکیشن کے ذریعے سارے عالم میں پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ کوئی بھی انسان اُس سے بے خبر نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page