Al-Risala · August 2012 · page

احسن القصص

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

اظہارِ دین

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد اظہارِ دین تھا۔ اظہارِ دین کی آیت قرآن میں تین بار آئی ہے (9 : 61 ; 28 : 48 ; 33 : 9)۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ التوبہ کے الفاظ یہ ہیں: هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله (9:33) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو سارے دین پر غالب کردے۔ اس آیت کی تفسیر کے تحت مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ— اظہارِ دین کا مطلب ہے حجت اور دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنا (أي بالحجة والبراهين، 8/121)۔ اظہارِ دین کے جس واقعے کا قرآن میں ذکر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود زمانۂ رسول میں وہ پوری طرح واقع ہو جائے گا۔ اس آیت میں ایک تاریخی تبدیلی کا ذکر ہے، اور تاریخ میں کوئی بڑی تبدیلی اچانک یا محدود مدت میں نہیں آتی، ایسی تبدیلی ہمیشہ لمبی مدت کے پراسس (process) کے بعد آتی ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلابی عمل شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف حالتوں سے گزرتا ہوا تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا اور پھر اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور پر وہ واقعہ اپنی کامل صورت میں پیش آیا جس کو قرآن میں 'ليظهره على الدين كله' کے الفاظ میں بیان کیا گیا تھا۔ حجت یا برہان کیا ہے۔ یہ ایک دوطرفہ عمل ہے، یعنی ایک طرف حجت کو پیش کرنے والا ہوتا ہے اور دوسری طرف حجت کو سننے والا۔ اس لیے حجت کو مخاطب کے ذہنی تقاضے کے مطابق ہونا چاہیے۔ علمی استدلال دراصل اس بات کا نام ہے کہ مخاطب کے علمی مسلمہ پر اپنی بات کو ثابت کیا جائے۔ ساتویں صدی کے نصف اول میں جب کہ قرآن اترا، اُس وقت دنیا روایتی دور سے گزر رہی تھی۔ اِس وقت صرف روایتی استدلال ہی ممکن تھا۔ مگر قرآن ایک ابدی کتاب کی حیثیت سے اتارا گیا ہے، اس لیے قرآن کے مذکورہ الفاظ میں یہ بات شامل ہے کہ نہ صرف روایتی دور میں، بلکہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی معیار کے مطابق بھی قرآن مسلمہ طور پر اپنی ایک ثابت شدہ کلام کی حیثیت کو برقرار رکھے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page