Al-Risala · August 2012 · page

احسن القصص

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

اس مصلحت کا تقاضا تھا کہ انسانی علم کا ارتقا ایسے نہج پر ہو جو قرآن کی صداقت کو بعد کے دور میں بھی یکساں طور پر برقرار رکھے۔ یہی وہ مطلوب ہے جو بعد کے سائنسی دور میں حاصل ہوا۔ سائنس کی دریافتوں نے صرف یہ کیا کہ قرآن کے نظریات کو دوبارہ سائنس کے معیار پر ایک مسلمہ معیار کی حیثیت دے دی۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی موافق قرآن واقعہ ہے جس کی پیشگی خبر ان الفاظ میں دی گئی تھی: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (41:53)۔

قرآن کی اس آیت میں آفاق وانفس کی جن نشانیوں کا ذکر ہے، اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو جدید سائنس کی دریافتیں (scientific discoveries) کہا جاتا ہے۔ یہ دریافت دراصل فطرت میں قائم شدہ خدائی قانون کی دریافتیں ہیں۔ چوں کہ قرآن کو نازل کرنے والا جو خدا ہے، اُسی نے فطرت کے ان قوانین کو بھی قائم کیا ہے، اس لیے دونوں کے درمیان کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس مطابقت نے حاملین قرآن کو موجودہ زمانے میں ایک یہ موقع دیا ہے کہ وہ قرآن کی صداقتوں کو سائنس کے مسلّمات کی روشنی میں ثابت شدہ بناسکیں۔

قرآن میں اظہار دین کے جس واقعے کا ذکر ہے، اْس سے مراد یہ نہیں ہے کہ خود زمانۂ نزول میں یہ واقعہ عملاً پیش آجائے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلاب آئے گا، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے پراسس کو شروع کرے گا۔ یہ پراسس عرب میں شروع ہوا اور بتدریج ارتقا کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس تکمیل کے ذریعے نہ صرف واقعات فطرت ظہور میں آئے، جنھوں نے اسلامی عقائد کے اثبات کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کی، بلکہ اس کے ذریعے دوسرے وہ اجتماعی واقعات ظہور میں آئے جو اسلامی دعوت کے عین موافق تھے۔ مثلاً آزادی، جمہوریت اور مذہب کے اعتبار سے کھلا پن (openness)، وغیرہ۔ قرآن کی اس آیت میں اظہار سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد فکری غلبہ اور ایسے حالات کا پیدا ہونا ہے جس کے بعد قرآن کے مشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، ہر قسم کے مواقع اس کے لیے قابل استعمال ہوجائیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں، قرآن کی یہ پیشین گوئی عملاً

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page