لوح محفوظ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
پوری طرح وقوع میں آچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی اظہارِ دین کی صدی ہے۔ اسلامی انقلاب کے ذریعے جو تاریخی عمل (historical process) ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا، وہ اکیسویں صدی میں اپنے آخری نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا ہے۔ اب اہل اسلام کا واحد فریضہ یہ ہے کہ وہ تمام دوسری چیزوں کو ثانوی (secondary) بنائیں۔ وہ دعوت الی اللہ، بہ الفاظِ دیگر دورِ جدید کی نسبت سے قرآنی تعلیمات کی اشاعتِ عام کریں، یہاں تک کہ ہر عورت اور ہر مرد اس سے باخبر ہوجائے۔
لوح محفوظ
قرآن کی سورہ البروج میں یہ آیت آئی ہے: بل ھو قرآن مجید في لوح محفوظ (85: 21-22) یعنی وہ ایک با عظمت قرآن ہے، لوح محفوظ میں۔ اس آیت میں لوح محفوظ (well-guarded tablet) کا مطلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی مستند حدیث موجود نہیں۔ تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں ایک محفوظ لوح ہے اور اس لوح پر قرآن کا متن لکھا ہوا ہے۔ یہ بات اصولاً درست ہے، لیکن لوح سے مراد معروف لوح نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ربانی لوح ہے۔ اصل یہ ہے کہ پورا عالم موجودات مکمل طور پر اللہ کے امر کے تحت ہے۔ شمس و قمر اور دوسرے ستاروں اور سیاروں کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُن کا ایک مقرر کورس (determined course) ہے، اور وہ ادنیٰ انحراف کے بغیر اس مقرر کورس پر چلتے ہیں (36: 38)۔ اسی معاملے کو علمی طور پر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ عالم مادی ،فطرت کے قانون (law of nature) کی پابند ہے، اور عالم حیوانات اپنی جبلت (instinct) کی پابند۔
انسان کا معاملہ بظاہر مختلف ہے، کیوں کہ انسان کو اپنے قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ مگر اس آزادی کے باوجود انسانی تاریخ پر اللہ نے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ تاریخ پر اسی کنٹرول کی ایک صورت وہ ہے جس کو قرآن کے حوالے سے اس طرح بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک لوح محفوظ میں ہے۔ لوح محفوظ کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ہے، مطالعہ کے ذریعے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues