لوح محفوظ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے نبیوں کے ذریعے بہت سی کتابیں بھیجیں جو انسان کے لیے معتبر ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مگر پچھلی کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ اب آخری پیغمبر بھیج دیا جائے تو اس فیصلے کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ آخری پیغمبر کے ذریعے آئی ہوئی کتاب (قرآن) کی مستقل حفاظت کا انتظام کر دیا جائے ــــ لوح محفوظ کے الفاظ میں قرآن کے اسی مخصوص حفاظتی انتظام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اس کی تدبیر یہ کی گئی کہ اولاً قرآن کا معیاری متن (standard version) علم الہی یا بہ الفاظ دیگر، ملاء اعلیٰ میں محفوظ کر دیا گیا اور پھر تاریخ کے لیے مقدر کردیا گیا کہ وہ اس معاملے میں اسی رخ پر سفر کرے۔ چناں چہ عملاً یہی ہوا۔ اولاً یہ ہوا کہ ساتویں صدی کے نصف اول میں قرآن کو حافظے سے کتابت کی صورت میں محفوظ کیا گیا۔ ہزاروں لوگوں نے نسل درنسل یہ کیا کہ قرآن کو نہ صرف یاد کر کے اپنے حافظے میں ریکارڈ کر لیا، بلکہ اسی کے ساتھ وہ قرآن کے کتابت شدہ نسخے برابر تیار کرتے رہے۔ اس طرح وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک مکتوب قرآن کو پہنچاتے رہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: علّم بالقلم ـــ تعلیم بالقلم کا یہ عمل اس طرح مسلسل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ انسانوں کو یہ توفیق دی کہ وہ طباعت کے آلات ایجاد کریں۔ اس فن کے ارتقا میں بہت سے انسانوں نے کام کیا۔ آخر کار جرمن گولڈ سمتھ جو ہانس گوٹن برگ (وفات: 1468) اس میں کامیاب ہو گیا کہ وہ ایک قابل عمل طباعتی آلہ دریافت کرے۔ اس دریافت کے بعد تاریخ میں ایک پرنٹنگ انقلاب (printing revolution) آیا جو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے موجودہ اعلیٰ طباعتی مشین (printing press) تک پہنچا۔ لوح محفوظ کے الفاظ میں اسی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن کا نزول 610 عیسوی میں شروع ہوا۔ اس کی تکمیل تقریباً 23 سال میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے استثنائی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ خدا کے نزدیک، قرآن کا جو معیاری متن (standard version) تھا، وہ ادنیٰ تغیر کے بغیر پہلے انسانی حافظے میں ریکارڈ ہوا، پھر ادنیٰ تغیر کے بغیر کتابت کے ذریعے اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues