Al-Risala · August 2012 · page

امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنج

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

وہ مسائل (problems) کے علاوہ، نئے امکانات (opportunities) بھی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اس امکان کو سمجھے اور اس کو استعمال کرے۔

مغربی چیلنج کیا تھا، وہ دراصل یہ تھا کہ مغربی قوموں نے فطرت (nature) کا گہرا مطالعہ کیا۔ انھوں نے نئی طاقتیں دریافت کیں۔ مثلاً پرنٹنگ پریس، مشین، کمیونیکیشن، وغیرہ۔ اس طرح ایک نئی تہذیب (civilization) وجود میں آئی۔ اس واقعے نے مغربی قوموں کو نئی طاقت دے دی۔ انھوں نے قدیم دنیا پر فکری اور عملی غلبہ حاصل کر لیا۔ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ مغربی قومیں غالب اور مسلمان مغلوب بن کر رہ گئے ہیں۔

اس نئی پیش آمدہ صورت حال کے مقابلے میں مسلمانوں نے صرف منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کیا۔ صحیح یہ تھا کہ وہ جدید دریافتوں کے پیدا کردہ امکانات کو عالمی امکانات سمجھتے۔ جس طرح ان امکانات کو اہل مغرب نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، اُسی طرح مسلمان بھی ان جدید امکانات کو اپنے حق میں استعمال کرتے۔ یہ مسلمانوں کی طرف سے، جدید چیلنج کا مثبت رسپانس ہوتا۔ مسلمان اگر ایسا کرتے تو یقینی طور پر وہ اپنی کھوئى ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کر لیتے۔ یہ اس معاملے کا عقلی پہلو ہے۔ اگر اس معاملے کو خالص دینی اعتبار سے دیکھیں، تب بھی معلوم ہوگا کہ جدید چیلنج کی نسبت سے مسلمانوں کا یہ رویہ یقینی طور پر درست نہ تھا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان متفقہ طور پر ایک ہی بات کہتے ہیں۔ وہ یہ کہ وہ موجودہ صورت حال کو مغربی قوموں کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد بات ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان اگر صبر اور تقویٰ کی روش اختیار کریں، تو دوسروں کی سازش انھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی (120: 3)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کسی گروہ کے خلاف سازش (conspiracy) اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود اِس گروہ کے اندر صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ باقی نہ رہے۔

یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page