نئی دہلی، یکم جون 2012 دعا گو وحید الدین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
ایک خط عزیزم عبد الرحمن چاؤش السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 16 مئی 2012 کو ٹیلی فون پر یہ خبر ملی کہ عزیزه ام السلام (پیدائش: 1950) کا انتقال ہو گیا: انا للہ وانا اليه راجعون۔ مرحومہ میری اولاد میں بلکہ میری پوری فیملی میں سب سے زیادہ نیک خاتون تھیں ۔ خاندان کے کسی شخص کو کبھی اُن سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش نہیں آیا ۔ وہ پورے معنوں میں صبر وشکر کا پیکر تھیں ۔ اپنی صفات کے اعتبار سے وہ بلا شبہ ایک جنتی خاتون تھیں ۔ مرحومہ اتنا زیادہ صالح مزاج کی خاتون تھیں کہ وہ نہ کبھی کسی سے فرمائش کرتی تھیں ، نہ کسی سے ان کو شکایت ہوتی تھی ۔ وہ گھر میں کبھی کوئی پرابلم پیدا نہیں کرتی تھیں ۔ وہ کبھی دنیوی باتوں کا چرچا نہیں کرتی تھیں ۔ بس اپنی ذمے داری ادا کرنا اور نماز، روزہ کرنا، یہی ان کا مشغلہ تھا۔ صبر، قناعت، سادگی، شکر، یہ سب باتیں ان کی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں ۔ ام السلام بظاہر میرے دعوتی مشن میں براہ راست شریک نہ تھیں ، مگر وہ برابر اس کے لئے دعا کرتی تھیں ۔ میرے ساتھ اللہ تعالی کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ میرے تمام بچے ، بلکہ بچوں کے بچے بھی میرے دعوتی مشن میں کسی نہ کسی پہلو سے شریک ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سب سے زیادہ دخل ام السلام کی دعاؤں کا ہے۔ مرحومہ اس بات کی ایک انوکھی مثال تھیں کہ دعوتی مشن میں شریک نہ ہوتے ہوئے بھی ایک شخص بالواسطہ طور پر دعوتی مشن کے لیے بہت بڑا کام کر سکتا ہے۔ مرحومہ دل سے میرے دعوتی مشن میں شریک تھیں ۔ وہ اپنے شوہر محمد عثمان چاؤش (وفات : 2005) کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہ بنیں۔ ان کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ محمد عثمان چاؤش صاحب کو یہ موقع ملا کہ وہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے دعوتی لٹریچر کو پھیلا دیں ۔ اس طرح دعوتی مشن میں اُن کی خاموش شرکت کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کی اولادیں سب کی سب، دعوتی مشن میں شامل ہو گئیں۔ وہ مقرریا محر نہ تھیں ، مگر انھوں نے اپنے صالح مزاج کی بنا پر مقرر اور محرر سے بھی زیادہ بڑا کام کیا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالی مرحومہ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھر پور تلافی فرمائے۔
نئی دہلی، یکم جون 2012 دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues