Al-Risala · August 2012 · page

شب قدر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

شب قدر

رمضان کا مہینہ ہجری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اہل ایمان کے لیے روزہ رکھنے کا حکم ہے (2: 183)۔ رمضان کے مہینے کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں شبِ قدر واقع ہوتی ہے۔ شب قدر کو قرآن میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے۔ یہ لیلۃ القدر دوسری ہزار راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ شب قدر کا ذکر قرآن کی سورہ القدر (97) میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ”بے شک ہم نے قرآن کو اتارا ہے شب قدر میں۔ اور تم کو کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں، ہر حکم لے کر۔ وہ رات سرتاسر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک“۔

یہ 610ء کی ایک رات تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب غارِ حرا میں موجود تھے۔ اُس وقت جبریل، قرآن کی پہلی وحی لے کر آپ کے پاس آئے۔ یہ پہلی وحی سورہ العلق (96) کی ابتدائی پانچ آیتیں تھیں۔ قرآن کا نزول خدا کی عظیم رحمت کا نزول تھا، اس لیے اُس رات کو ایک یادگار رات قرار دیا گیا۔ شب قدر کے موقع پر خدا اپنے سالانہ فیصلے فرماتا ہے۔ اس لیے یہ رات ذکر اور دعا اور عبادت اور تلاوت کی رات قرار دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو اس موقع پر زیادہ سے زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے، تا کہ خدا کے سالانہ فیصلوں میں اُس کو خدا کی رحمت میں زیادہ سے زیادہ حصہ ملے۔ وہ خدا کے نزدیک زیادہ سے زیادہ انعام کا مستحق قرار پائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رمضان کی آخری راتوں میں اعتکاف میں تھا، اُس وقت مجھ پر شب قدر کا علم اُتار اگیا۔ میں مسجد سے باہر نکلا، تاکہ میں تم کو شب قدر کے وقت کے بارے میں بتا دوں، لیکن اُس وقت مدینہ کے دو مسلمان آپس میں لڑ گئے، اس کے بعد شب قدر کا علم اٹھا لیا گیا (فتلاحی رجلان من المسلمين، فُرفعت) صحيح البخاري، رقم الحديث: 1919۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page