شب قدر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲، صفحہ ۴۰
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر کی خصوصی رحمتوں میں حصے دار بننے کے لیے کیا چیز ضروری ہے، وہ چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر لڑائی جھگڑے کا مزاج نہ ہو۔ اُس کا دل نفرت جیسے منفی جذبات سے خالی ہو۔ اُس کا ذہن پوری طرح مثبت انداز میں سوچنے والا ہو۔ جو عورت یا مرد اپنے اندر اس قسم کی مثبت شخصیت رکھتے ہوں، انھیں کو شب قدر کی رحمتوں میں حصہ ملے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شب قدر کو پاؤں تو میں کیا دعا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اس طرح کہو: اللهم إنك عفو تحب العفو، فاعف عني (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3513) یعنی اے اللہ، تو سرتا پا معافی ہے اور تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ شب قدر میں آدمی کے اندر سب سے زیادہ طلب کس چیز کی ہونا چاہیے، وہ یہ کہ آدمی موت کے بعد آنے والی ابدی زندگی کی کامیابی کا حریص ہو۔ وہ اللہ سے یہ درخواست کرے کہ— خدایا، تو میری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما، آخرت کی ابدی زندگی میں تو مجھے دوزخ سے بچا، اور جنت کے باغوں میں تو مجھے جگہ عطا فرما۔
قرآن کے مطابق، شب قدر میں کثرت سے خدا کے فرشتے اترتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا شب قدر کی صورت میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ فرشتوں کا ہم نشیں بنے۔ وہ فرشتوں سے ایسی روحانی غذا لے جس کے نتیجے میں اُس کا دل سلامتی کے جذبات سے بھر جائے۔ وہ منفی جذبات اور دنیا پرستی سے اوپر اٹھ جائے اور حقیقی معنوں میں وہ خدا کا طالب بن جائے۔ ایسا ہی دل و دماغ رکھنے والے لوگ شب قدر کے موقع پر خدا کی خصوصی رحمتوں میں حصے دار بنیں گے۔ شب قدر ایک اعتبار سے شب امن ہے۔ جس عورت یا مرد کو شب قدر کی رحمتیں مل جائیں، اُس کا دل امن و سلامتی کے جذبات سے بھر جائے گا۔ اس کی سوچ پر امن سوچ ہوگی۔ اس کی گفتگو پر امن گفتگو ہوگی۔ اس کا کردار پر امن کردار ہوگا۔ اس کا طریقہ پر امن طریقہ ہوگا۔ اس کی پوری شخصیت امن پسند شخصیت بن جائے گی۔ اس کے ذریعے سے دوسروں کو جو چیز ملے گی، وہ امن ہوگا اور صرف امن۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues