قرآن : کتاب قدر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
قرآن : کتاب قدر
قرآن کی سورہ القدر کی پہلی آیت یہ ہے: إِنَّا أنزلناه في ليلة القدر (97:1) یعنی ہم نے قرآن کو اتارا ہے قدر کی رات میں۔ اس آیت میں قدر کا مطلب تقدیر (Destiny) ہے۔ اس آیت میں قدر کی نسبت رات کی طرف کی گئی ہے، مگر حقیقت میں اس کی نسبت قرآن کی طرف ہے، یعنی وہ رات جس میں کتاب قدر (Book of Destiny) اتاری گئی۔
قرآن میں انسان کی تقدیر بتائی گئی ہے، یعنی وہ قوانین فطرت جو انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے ہیں، فرد کی تقدیر بھی اور قوم کی تقدیر بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ قرآن کے ان ابدی قوانین تقدیر کو معلوم کرے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔
مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً (3: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون حیات کے مطابق، انسان کی طاقت کا سرچشمہ صبر اور تقویٰ ہے۔ کسی فرد یا قوم کا اصل مسئلہ سازش غیر کی موجودگی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اپنے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود نہیں۔
اس قانون فطرت کے مطابق، اگر کوئی قوم یہ پائے کہ دوسرے لوگ اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، نہ کہ اپنے آپ سے باہر۔ اس طرح کی صورت حال میں کسی مفروضہ حریف کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلانا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک غیر متعلق (irrelevant) کام ہے۔
اصل یہ ہے کہ ایسے موقع پر خود اپنا جائزہ لیا جائے، صبر و تقویٰ کے اعتبار سے اپنی کمیوں کو تلاش کیا جائے۔ جو لوگ اس اعتبار سے قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں، وہی شب قدر کی برکتوں کو پائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues