قرآن : کتاب قدر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
سوال وجواب سوال آپ نے لکھا ہے کہ جنت کسی کی سفارش سے نہیں ملتی، اگر ایسا ہے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ میری شفاعت میری اُمت کے گناہِ کبیرہ کرنے والوں کے لئے ہے: شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي (مسند أحمد، رقم الحديث: 13566)۔ ابھی الرساله، جون 2012 کا شمارہ مجھے ملا۔ اس میں ’’وسیلہ کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل نہیں ہوگی اور اس کو وسیلہ کا نام دینا خود ساختہ مفہوم ہے۔ جو شخص اپنے عمل کے اعتبار سے جنتی نہ ہو، وہ پیغمبر کی سفارش سے جنتی نہیں بن جائے گا۔ اگر کوئی شخص شفاعت کا یہ مطلب سمجھتا ہے تو یہ مطلب صحیح نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ نہ کسی کو پیغمبر کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل ہوگی اور نہ کوئی جہنمی شخص پیغمبر کی سفارش سے جنتی بن جائے گا۔ یہ تمام تر اللہ کا عطیہ ہے، قرآن اور حدیث دونوں میں اس بارے میں واضح ہدایات ہیں۔ میں جاننا چاہوں گا کہ قرآن کی کس آیت میں اور حدیث کی کس روایت میں یہ واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ نے شفاعت کا جو مطلب بیان کیا ہے، اُس کی روشنی میں ’’شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي‘‘ کا مفہوم واضح فرمائیں۔ (اے، جے، قادری، امبیڈکر نگر، یوپی) جواب احادیث کے بارے میں علما کا مسلک یہ ہے کہ جب دو حدیثوں میں تعارض ہو تو ایک حدیث کو لیا جائے گا اور دوسری حدیث کی تاویل کی جائے گی، مسند احمد کی مذکورہ روایت کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف یہ حدیث ہے اور دوسری طرف ایسی کئی روایتیں ہیں جو اس حدیث کے سراسر خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں اس سلسلے میں چند حدیثیں نقل کی جاتی ہیں:
1- ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ ما أدري، وأنا رسول اللہ، ما يفعل بي، ولا بكم (صحیح البخاري، رقم الحديث: 7018) یعنی خدا کی قسم، میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues