Al-Risala · January 2012 · page

This is a spiritual gift for you.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

وہ اونچی بلڈنگوں اور پہاڑوں سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ اس لیے جہاز کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مسلسل اپنی پرواز کو جاری رکھ سکے۔ میں نے سوچا کہ یہی انسان کا معاملہ بھی ہے۔ انسان بھی اپنے ذہنی سفر (intellectual journey) کو اُسی وقت کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے، جب کہ وہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل میں نہ الجھے، وہ تمام مسائل سے اوپر اٹھ جائے۔ ایسا ہی انسان اپنے ذہنی ارتقا کے سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔

اُس وقت فضا میں بادل تھے۔ جہاز بادلوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ ہوائی جہاز کے اسٹاف کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہمارا جہاز جلد ہی نیویارک کے ائیر پورٹ پر اترنے والا ہے۔ جہاز کا ایک ائیرپورٹ سے ٹیک آف کرکے ہوا میں اُڑنا اور پھر دوسرے ائیرپورٹ پر لینڈ کرنا، ٹکنالوجی کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر مجھ کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ دراصل فرشتے تھے جنھوں نے جہاز کو دہلی سے اُڑایا اور آخر کار اس کو نیویارک کے ائیرپورٹ پر اتار دیا۔

نیویارک کا ائیرپورٹ بہت بڑا ائیرپورٹ ہے اس کے اندر مختلف مقامات پر اس طرح کے جملے لکھے ہوئے تھے۔ مثلاً ایک جملہ یہ تھا— گلوبل وارمنگ سے لڑنے کے لیے ساتھ دیجیے: Let's join hands to fight global warming. آج کل ائیرپورٹ پر رینڈم چیکنگ ہوتی ہے۔ اس کے تحت ائیر پورٹ پر ہمارے دو ساتھیوں کو روک دیا گیا۔ کچھ دیر تک پوچھ گچھ کرنے کے بعد آخر کار ان کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی قسم کا ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا۔ میرے سر پر پگڑی تھی۔ چیکنگ کرنے والے آدمی نے میری پگڑی کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے فوراً اپنی پگڑی اتار دی۔ اس نے مسکرا کر کہا—اوکے۔ اسی طرح چیک کرنے والے آدمی نے میرا جوتا اتروانا چاہا۔ میں نے فوراً اپنا جوتا اتار دیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، آگے جائیے۔

اس طرح کی چیکنگ پر اکثر لوگ غصہ ہوجاتے ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہم تو کوئی مجرم نہیں ہیں، پھر ہماری چیکنگ کیوں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ چیک کرنے والے کو اگر پیشگی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page