Al-Risala · August 2012 · page

قرآن : کتاب قدر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

نہیں جانتا، اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔ 2 - عن أبي هريرة قال لما نزلت: وأنذر عشيرتك الأقربين۔ جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا فخص وعمّ، فقال يا معشر قريش، انقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا معشر بني عبد مناف، أنقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا معشر قصي، أنقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا معشر بني عبد المطلب، أنقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا فاطمة بنت محمد، أنقذي نفسك من النار فإني لا أملك لك من الله ضرا ولا نفعا۔ (سنن الترمذي، رقم الحديث: 3185)

یعنی جب قرآن کی یہ آیت اتری: وأنذر عشيرتك الأقربين (26: 214) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو جمع کیا۔ آپ نے خصوصی طور پر اور عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے قریش کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنو عبد مناف کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنی قصّی کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنو عبد المطلب کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے فاطمہ بنت محمد، تم اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ 3- عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سددوا وقاربوا وأبشروا، فإنه لا يُدخل أحدًا الجنة عمله. قالوا: ولا أنت يا رسول الله۔ قال: ولا أنا، إلا أن يتغمدني الله بمغفرة ورحمة (صحیح البخاری، رقم الحديث: 6467) یعنی رسول اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page