Al-Risala · August 2012 · page 44

قرآن : کتاب قدر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲، صفحہ ۴۴

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا رویہ درست رکھو اور میانہ روی پر قائم رہو اور پرامید رہو، کیوں کہ کسی بھی شخص کو اُس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ کو بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو بھی نہیں، الایہ کہ اللہ مجھ کو اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: ليس للإنسان إلا ما سعی (53:39)۔

اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے کچھ نہ کر سکے گا۔ اُس دن سارا معاملہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا: يوم لا تملك نفس لنفس شيئاً، والأمر يومئذ لله (19:82)۔ ان آیتوں اور ان حدیثوں سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا جنت میں داخلہ صرف اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی دوسرے شخص کی سفارش کی بنیاد پر۔ ایسی حالت میں مسلمہ اصول کی بنیاد پر مذکورہ روایت (شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي) یا اس قسم کی کسی اور حدیث شفاعت کی تاویل کی جائے گی۔ وہ تاویل یہ ہے کہ حدیث میں شفاعت سے مراد سفارش (recommendation) نہیں ہے، بلکہ شہادت (witness) ہے۔ اس تاویل کا درست ہونا خود قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن کی سورہ الزخرف میں یہ آیت اس موضوع پر حجتِ قاطع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: ولا يملك الذين يدعون من دونه الشفاعة، إلا من شهد بالحق وهم يعلمون (43:86) یعنی اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، مگر وہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں گے۔

اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ ”قیامت میں پیغمبر اور داعیانِ حق جو شفاعت کریں گے، وہ حقیقۃً شفاعت نہیں ہے، بلکہ شہادت ہے، یعنی ایسی بات کی گواہی دینا جس کو آدمی ذاتی طور پر جانتا ہو۔ آخرت میں جب لوگوں کا مقدمہ پیش ہوگا تو سارے علم کے باوجود اللہ تعالیٰ مزید تائید کے طور پر اُن لوگوں کو کھڑا کرے گا جو قوموں کے ہم عصر تھے، انھوں نے اُن کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا، پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا، کسی نے حق کا ساتھ دیا اور کوئی حق کا مخالف بن کر کھڑا ہو گیا۔ یہی تجربہ جو اُن صالحین پر براہِ راست گزرا، اس کو وہ خدا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ ایسا ہی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page