قرآن : کتاب قدر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
ہوگا جیسے کہ کوئی گواہ عدالت میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک سچا بیان دے۔ اس کے سوا کسی کو قیامت میں یہ اختیار حاصل نہ ہوگا کہ وہ کسی مجرم کا شافع بن کر کھڑا ہو اور وہ اس کے بارے میں اُس خدائی فیصلے کو بدل دے جو از روئے واقعہ اس کے بارے میں ہونے والا تھا۔ خدا اس سے بہت بلند ہے کہ اُس کے حضور کوئی شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے۔ “ (تذکیر القرآن، صفحہ: 1351) سوال غلو کیا ہے اور غلو کا نقصان کیا ہے۔ براہِ کرم، اس کو واضح فرمائیں، نیز یہ بتائیں کہ کسی تحریک سے وابستہ افراد اپنی تحریک کو غلو اور فرقہ بندی کی نفسیات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔ (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
جواب
اسلام میں غلو سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن اور حدیث میں اگرچہ غلو کے لیے حرام کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے غلو کی برائی یقینی طور پر حرام سے کم نہیں۔
غلو کا مطلب حد سے تجاوز کرنا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو انتہا پسندی (extremism) کہا جاسکتا ہے۔ غلو کی دو قسمیں ہیں ــ اعتقادی غلو، اور عملی غلو۔ دونوں قسم کے غلو کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔ عملی غلو سے انفرادی مزاج میں بگاڑ آتا ہے، لیکن اعتقادی غلو کی برائی اس سے زیادہ ہے۔ اعتقادی غلو اگر بڑھ جائے تو اُس سے نئے نئے فرقے وجود میں آتے ہیں۔ عملی غلو کی ایک مثال یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہوائی جہاز سے سفر کرنا سنت کے خلاف ہے اور پھر وہ حج کے لیے پیدل یا اونٹ کے ذریعے سفر کرکے مکہ پہنچے۔ یہ طریقہ ایک شخص کے مزاج میں انتہا پسندی پیدا کر سکتا ہے، لیکن اُس سے کوئی الگ فرقہ نہیں بنے گا۔
اعتقادی غلو زیادہ شدید قسم کا غلو ہے۔ ایک شخص اعتقادی غلو کی بات کرے اور پھر بہت سے لوگ اس کے ماننے والے بن جائیں تو اس سے ایک نیا فرقہ وجود میں آ جائے گا۔ مثلاً کوئی شخص یہ دعویٰ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues