قرآن : کتاب قدر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
کرے کہ نبوت کلی معنوں میں ختم نہیں ہوئی، زمانے کے بدلنے سے دوبارہ کوئی نبی آسکتا ہے، اور اس نئے پیغمبر پر ایمان لانا اس کے معاصرین کی نجات کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح کی بات اگر زیادہ لوگ مان لیں تو اس سے دین میں ایک نیا فرقہ وجود میں آجائے گا۔
غلو ایک قسم کی بدعت ہے۔ غلو ہر حال میں ایک برائی ہے، لیکن اگر کوئی شخص ایک ایسی سنت کو زندہ کرنے کے لیے کھڑا ہو جو معاصرین کو بظاہر نئی چیز معلوم ہو، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک متروک سنت کا احیا ہو تو ایسی تحریک غلو نہیں۔ مثلاً دعوت الی اللہ کی تحریک۔ ایسی تحریک سے دین میں کبھی کوئی برائی پیدا نہیں ہوگی۔
آپ کے سوال کا دوسرا جز یہ ہے کہ— کسی تحریک سے وابستہ افراد اپنی تحریک کو غلو اور فرقہ بندی کی نفسیات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔ میرے نزدیک، اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قسم کے غلو اور فرقہ بندی سے بچنا غالباً ممکن نہیں۔ غلو اور فرقہ بندی کی یہ قسم اصلاً دور زوال کا ظاہر ہے۔ اسی بنا پر یہود کے اندر بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے اور اسی بنا پر مسیحیوں میں بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے اور اسی بنا پر خود امت محمدی میں بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے۔ چوں کہ دور زوال لازماً ہر تحریک پر آتا ہے، اس لیے دورِ زوال میں اس قسم کے غلو اور فرقہ بندی جیسی چیزیں بھی ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ اس قسم کے غلو اور فرقہ بندی کی پیدائش کو روکنا تو ممکن نہیں ہے، البتہ دوسری چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ تحریک کے افراد اس سلسلے میں بہت زیادہ حساس اور باشعور ہوں۔
چناں چہ جب دور زوال میں اس قسم کا غلو پیدا ہو تو اُن کے درمیان ایسے مصلح اٹھیں جو دوبارہ لوگوں کو غلو سے ہٹا کر صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں، وہ اُن کو فرقہ بندی اور شخصیت پرستی کے بجائے دوبارہ حقیقی خدا پرستی کے راستے پر قائم کریں، وہ قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے اُن پر یہ واضح کریں کہ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے، وہ غلو اور فرقہ بندی نہیں، بلکہ اعتدال اور آفاقیت ہے۔ اس آفاقی ذہن کے بغیر نہ کوئی مذہبی تحریک کبھی کامیاب ہو سکتی ہے، اور نہ سیکولر تحریک۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues