ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
حالیہ برسوں میں اس قسم کی خبریں بار بار آتی رہیں۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں، اس کا سبب یہی جدید دعوتی مواقع ہیں۔ جدید دعوتی مواقع نے ہمارے لیے اسلام کی پرامن اشاعت کے نئے مواقع کھول دئے ہیں۔
دہلی ائر پورٹ پر پہنچ کر دو مزید ہم سفر مل گئے۔ مسٹر علی اکیز (Ali Akkiz) اور پروفیسر زبیر احمد فاروقی۔ دونوں کی ہم راہی ہمارے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی اس کانفرنس میں مندوب (delegate) کی حیثیت سے جا رہے تھے، اور مسٹر علی اکیز ترکی ہمارے معاون کی حیثیت سے۔ مگر مسٹر علی ہمارے لیے معاون پلس ثابت ہوئے۔ ان کی وجہ سے یہ سفر ہم لوگوں کے لیے بہت آسان ہو گیا۔
پروفیسر زبیر احمد فاروقی (67 سال) جون پور (یوپی) کے رہنے والے ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم دار العلوم دیوبند میں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے عربی تقریر و تحریر میں مہارت حاصل کی۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے عربی ڈپارٹمنٹ میں ہیڈ رہ چکے ہیں۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ عربی زبان میں مہارت کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنون۔ آدمی جب جنون کی حد تک کسی چیز کا طالب بن جائے تو وہ ضرور اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک اور سوال میں نے ان سے یہ کیا کہ فیملی لائف کو کامیاب بنانے کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایڈجسٹمنٹ (adjustment)۔ مسٹر علی اکیز (35 سال) کی مادری زبان ترکی ہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی زبان سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ ہمارے ساتھی مختلف موضوعات پر برابر اُن سے تبادلہ خیال کرتے رہے۔ ہمارے ساتھ سفر میں ذاتی بیگ کے علاوہ، 5 بڑے بڑے کارٹن (carton) تھے۔ اس میں دعوتی لٹریچر پیک کیا گیا تھا۔ چیک ان (check-in) کے کاؤنٹر پر ائر پورٹ کے آدمی نے پوچھا کہ اس کے اندر کیا ہے۔ ہمارے ساتھی نے کہا کہ اسپریچول بکس (spiritual books)۔ اس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا، بلکہ فوراً اوکے (ok) کہہ کر اس کو چیک ان کر دیا۔ اس واقعے میں ہمارے لیے ایک سبق تھا۔ پچھلے زمانے میں اس قسم کا معاملہ صرف رائل پیکٹ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues