ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
(royal packet) کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ یہ دورِ جدید کا خاصہ ہے کہ اب وہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ اسپرچول پیکٹ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں ائر پورٹ کے عملہ کو ہندی اور انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی پمفلٹ دیا۔ اس کو لوگوں نے 'تھینک یو' کہہ کر بخوشی قبول کیا۔ دہلی سے استنبول (Istanbul) کا سفر ٹرکش ائرلائنز (Turkish Airlines) کی فلائٹ نمبر 0717 کے ذریعے طے ہوا۔ یہ تقریباً 7 گھنٹے کا سفر تھا۔ دہلی اور استنبول کے درمیان ڈھائی گھنٹے کا فرق ہے، یعنی جب دہلی میں 12 بج رہے ہوں گے تو اُس وقت استنبول میں ساڑھے نو بج رہے ہوں گے۔ ٹرکش ائرلائنز کی ہر چیز جدید معیار کے مطابق نظر آئی۔ جہاز جب مجھ کو لے کر فضا میں تیز رفتاری کے ساتھ اُڑ رہا تھا، اُس وقت مجھ کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی: ولقد کرّمنا بني آدم، وحملناهم في البر والبحر (17:70)۔
اس آیت میں فضائی سفر اپنے آپ میں شامل ہے۔ میں نے سوچا کہ ابتدائی دور ہی میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے گھوڑا پیدا کر دیا۔ گھوڑا گویا کہ قدرتی طور پر ایک کسٹم میڈ (custom made) سواری کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد انسانی ذہن سفر کے نئے نئے طریقوں کو دریافت کرتا رہا، یہاں تک کہ ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کا زمانہ آگیا۔ تمام مخلوقات میں یہ صرف انسان ہے جس کے ساتھ اللہ نے اس خصوصی ''تکریم‘‘ کا معاملہ کیا ہے۔ راستے میں ٹرکش ائرلائنز کی فلائٹ میگزین (Sky Life) کا شمارہ مئی 2012 مطالعے کے لیے موجود تھا۔ اس کے ایک صفحے پر ترکی اور انگریزی زبان میں یہ اشتہار درج تھا: Your ideas are important to us... to help us serve you better, please fill in the form at the back of the magazine. Your opinions and suggestions will be given careful consideration. یہ جدید دور کے تجارتی اخلاق کی ایک مثال ہے۔ اس کو کسٹمر فینڈلی کلچر (customer-friendly culture) کہا جاتا ہے۔ اِسی طرح دعوت الی اللہ کے لیے بھی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues