ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
مدعو فرینڈلی کلچر (Mad'u-friendly culture) درکار ہے۔ دعوت کا کام صرف اعلان کا کام نہیں ہے، بلکہ وہ خیر خواہانہ اعلان کا کام ہے۔ مدعو کی کامل رعایت کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہیں پا سکتا۔
راستے میں دوران پرواز جب کھانا دیا گیا تو اس سے پہلے خوب صورت چھپا ہوا مینو (Menu) دیا گیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا بادلوں کے اوپر ہمارے رستوراں میں آپ کا سواگت ہے: Welcome to our restaurant above the clouds!
اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ یہ جنتی مہمان نوازی کی ایک جھلک ہے۔ یہ اعلیٰ مہمان نوازی (high hospitality) دنیا میں غیر معیاری صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ آخرت میں وہ اللہ کے منتخب بندوں کو معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
کھانے میں جو چیزیں دی گئی تھیں، اُن میں سے ایک ترکی میوہ ہیزیل نٹ (Hazelnut) تھا۔ اس کے پیکٹ پر لکھا ہوا تھا: Miracle Nut یعنی معجزاتی میوہ۔ اس کو دیکھ کر ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ عارف انسان کے لیے اس دنیا کی ہر چیز معجزہ (miracle) ہے، حتّیٰ کہ ایک پارٹیکل بھی معجزاتی پارٹیکل (miracle particle) ہے۔ یہ شعور اگر آدمی کے اندر بیدار ہو تو اس کو ہر چیز، خواہ بظاہر وہ چھوٹی ہو یا بڑی، ایک معجزاتی رحمت نظر آئے گی۔ دہلی سے استنبول کا سفر 7 گھنٹے کا نان اسٹاپ سفر تھا۔ عام حالت میں اس قسم کا طویل سفر بہت اکتا دینے والا ہوتا ہے، مگر اللہ کے فضل سے جہاز کے اندر مجھے نیند آگئی اور جب نیند کھلی تو جہاز میں اعلان ہو رہا تھا کہ ہم بہت جلد استنبول کے ائر پورٹ پر اترنے والے ہیں۔ نیند کو قرآن میں سُبات (78:9) کہا گیا ہے، یعنی راحت (repose) کا ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نیند انسان کے لیے ایک عجیب نعمت ہے۔ میڈیکل سائنس اب تک یہ دریافت نہ کر سکی کہ نیند کیوں آتی ہے۔ گفتگو کے دوران ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے 120 سال پہلے مئی 1892 میں انڈیا سے ترکی کا سفر کیا تھا۔ وہ بمبئی سے اسٹیم شپ کے ذریعے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues