ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
روانہ ہوئے اور 22 دن سفر کرنے کے بعد استانبول پہنچے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا سفر صرف 7 گھنٹے میں مکمل ہو گیا۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ پچھلے 120 سال کے اندر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کتنے بڑے بڑے مواقع کھول دئے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ مواقع اس لیے کھلے تھے کہ مسلمان اُس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام عالمی سطح پر انجام دیں، مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان اکیسویں صدی میں بھی اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ وہ نہ حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر ادا کر سکے اور نہ انھوں نے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام انجام دیا۔
ٹرکش ائرلائنز جس سے ہم لوگ سفر کر رہے تھے، اُس کی سروس بالکل یورپی معیار کی تھی۔ پوری پرواز نہایت پرسکون رہی۔ آخر میں لینڈنگ بھی پوری طرح اسموتھ لینڈنگ (smooth landing) تھی۔ راستے میں ہمارے ساتھیوں نے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ جہاز کا پائلٹ اپنی کیبن میں تھا۔ جہاز کے ایک اسٹاف کے ذریعہ اس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ بھیجا گیا۔ استانبول کے ائر پورٹ پر پائلٹ نے کیبن سے باہر نکل کر ہمارے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔ استانبول کے انٹرنیشنل ائر پورٹ کا نام اتاترک ائر پورٹ ہے۔ وہ ترکی کے یورپین سائنڈ (Thrace) میں واقع ہے۔ ائر پورٹ پر لمبا راستہ طے کرنے کے لیے میں وہیل چیئر استعمال کرتا ہوں۔ ائر پورٹ پر میں نے دیکھا کہ یہاں اس کا ایک پورا ڈپارٹمنٹ قائم ہے۔ صرف ایک مسافر کو جہاز سے اتار کر باہر پہنچانے کے لیے جدید طرز کی مخصوص گاڑیاں ہیں جن کو ہینڈل کرنے کے لیے کئی آدمیوں کا عملہ (staff) ہے۔ ان لوگوں نے جس طرح ہوائی جہاز سے اتار کر مجھ کو ائر پورٹ کے باہر کھڑی ہوئی گاڑی تک پہنچایا، وہ پورا معاملہ ورک کلچر (work culture) کا اعلی نمونہ تھا۔ یہ سب ترکی کے اُس ویسٹرنائزیشن (westernization) کا نتیجہ ہے جس کو مذہبی مسلمان عام طور پر مغرب زدگی کا نام دیتے ہیں۔
کانفرنس کے منتظمین نے ہم لوگوں کے لیے ایک مخصوص گاڑی رزرو (reserve) کر رکھی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues