ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
تھی ۔ یہ گاڑی شروع سے آخر تک ہمارے استعمال میں رہی ۔ میں نے دیکھا کہ ہمارا ترکی ڈرائیور عام ہندوستانی ڈرائیور سے بالکل مختلف تھا ۔ وہ کوئی غیر ضروری بات نہیں کرتا تھا ۔ اس گاڑی کے ذریعے ہم لوگ مسٹر علی کے ہم راہ ائر پورٹ سے ہوٹل کے لیے روانہ ہوئے ۔ سڑکیں بہت کشادہ اور ہموار تھیں ۔ سڑکوں پر ہندوستان جیسا رش (rush) نظر نہیں آیا ۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کی کثیر منزلہ خوب صورت عمارتیں نظر آئیں ۔ جگہ جگہ سر سبز علاقے دکھائی دے رہے تھے ۔ سڑک کے دونوں طرف کثرت سے مسجدوں کے بلند مینار دکھائی دے رہے تھے۔
میرا اندازہ ہے کہ ترکی میں جو اعلیٰ انفراسٹرکچر ہے، وہ غالباً دوسرے کسی مسلم ملک میں موجود نہیں۔ ترکی کی شہری پلاننگ بظاہر مغربی طرز کی ہے، لیکن ترکی کے شہروں اور مغربی ملکوں کے شہروں میں ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے، وہ یہ کہ مغربی ملک کے ایک شہر میں بلڈنگیں ہوں گی، لیکن مسجد کے مینار وہاں دکھائی نہیں دیں گے۔ لیکن ترکی میں جدید طرز کی بلڈنگوں کے ساتھ ترکی طرز کے مینار دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کر رہے ہیں۔ استنبول کا شہر ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے، اس لیے اس کے مختلف حصوں میں بہت زیادہ نشیب و فراز پایا جاتا ہے۔
ترکی، شرقِ اوسط کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طور پر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے:
Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West (EB. 18/782)
ترکی کے ایشیائی حصے کو اناطولیہ (Anatolia) اور اس کے یورپی حصے کو تھریس (Thrace) کہا جاتا ہے۔ اس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues