ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
استنبول کے جس ہوٹل (Sözbir Royal Residency) میں ہمارا قیام تھا، وہ آبنائے باسفورس کے کنارے ہے۔ یہ ہوٹل ایشین سائنڈ (Anatolia) میں واقع ہے۔ ہماری گاڑی باسفورس کے اوپر بنے ہوئے اُس جدید طرز کے پل سے گزری جس کو 1973 میں برٹش انجینئروں نے تعمیر کیا تھا۔ یہ ایک لمبا اور کشادہ پل ہے۔ باسفورس کا یہ پل ترکی کے یورپی حصے کو ترکی کے ایشین حصے سے جوڑتا ہے۔ ائر پورٹ سے ہوٹل تک کا یہ راستہ 45 منٹ میں طے ہوا۔ ہوٹل میں میں جس کمرہ (suite) میں تھا، اس میں ہر قسم کا آرام وراحت کا سامنا تھا، لیکن مجھے کسی چیز سے کوئی دل چسپی نہیں تھی، حتیٰ کہ میں نے اس کے جدید طرز کے باتھ روم میں کبھی غسل بھی نہیں کیا۔ یہاں میری ساری دل چسپی صرف ایک چیز سے تھی اور وہ تھی کمرے کی پشت پر لگے ہوئے شیشے کے پاس بیٹھ کر باسفورس کا منظر دیکھنا۔
باسفورس (Bosphorus) ایک آبنائے (strait) ہے۔ باسفورس بحر اسود (Black Sea) اور بحر مرمرا (Sea of Marmara) کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ آبنائے باسفورس 1452 عیسوی میں ترکوں کے قبضے میں آیا۔ آبنائے باسفورس میرے لیے فطرت کے حسن کا اتھاہ منظر تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues