We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
محروم ہوجائے، وہ اسپرپچول ڈیویلپمینٹ سے محروم ہوجائے گا۔ کیا آپ اس کا تحمل کرسکتے ہیں کہ آپ اسپرپچول ڈیویلپمینٹ سے محرومی میں جئیں اور اسی حالت میں مرکر دنیا سے آخرت کی طرف چلے جائیں۔ میری بات کا اُن پر بہت اثر ہوا۔ انھوں نے اُسی دن سے سگریٹ پینا چھوڑ دیا۔ عصر کی نماز کے بعد ہم لوگ مسٹر علی کے ساتھ استنبول کے ایک خاص مقام کو دیکھنے کے لیے گئے۔ اس کا نام یہ ہے— چمل جہ (Camlica)— یہ استنبول کی سب سے اونچی پہاڑی ہے۔ وہ سطح سمندر سے 267 میٹر بلند ہے۔ یہاں سے شہر کا بیشتر حصہ دکھائی دیتا ہے۔ یکم مئی 2012 کو لیبرڈے (Labour Day) تھا، اس بنا پر یہاں لوگوں کی کافی بھیڑ نظر آئی۔ میں نے مسٹر علی سے پوچھا کہ آپ کا ملک مشرق اور مغرب دونوں حصوں میں واقع ہے۔ آپ اپنے کو مشرقی سمجھتے ہیں یا مغربی۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ — مائنڈ سے یورپین اور ہارٹ سے ایشین۔ عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو ہمیشہ اپنی بات سناتے ہیں، لیکن میرا مزاج اس سے مختلف ہے۔ میں یہ کرتا ہوں کہ دوسروں سے بار بار سوال کرکے ان کی بات سنتا ہوں، یہی میں نے یہاں بھی کیا۔ مسٹر علی سے میں بار بار سوال کرتا رہا اور ان کی باتیں سنتا رہا۔ میں نے پایا کہ مسٹر علی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو بہت سے واقعات یاد ہیں۔ تاریخ سے ان کو خصوصی دلچسپی ہے۔ وہ ترکی کے علاوہ، انگریزی اور رشین زبان جانتے ہیں۔ آج کل وہ عربی اور اردو زبان سیکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ترکی میں ایک مقولہ ہے — ایک زبان، ایک انسان ۔ دو زبان، دو انسان ۔ تین زبان تین انسان:
Bir lisan bir insan, iki lisan iki insan, Üç insan üç insan مابعد اتاترک دور (post-Atatürk period) پر گفتگو کرتے ہوئے مسٹر علی اکین نے کہا کہ ترکی میں اس دور میں دو خاص ترک مفکر پیدا ہوئے— دونوں کی سوچ غیر سیاسی اور تعمیری سوچ ہے۔ بدیع الزماں سعید نورسی (وفات: 1960) نے ترکوں کو نئے دور میں زندگی کی تعمیر کے لیے ایک فکر دیا۔ اور استاذ فتح اللہ گولن (پیدایش: 1941) نے اس فکر کو ایک باقاعدہ عمل کی صورت دی۔ میں نے کہا کہ جہاں تک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues